تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 2
خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لگ الگ دور ہوتے ہیں۔کوئی دور تو ایسا آجاتا ہے کہ وہ قربانیوں کی انتہا چاہتا ہے اور کوئی دور ایسا آجاتا ہے کہ قربانیوں کی گوضرورت تو ہوتی ہے مگر کم۔گویا یہ قربانیوں کے زمانے لہروں کی طرح آتے ہیں۔کبھی یہ لہریں اونچی اٹھنے لگتی ہیں اور کبھی نیچی ہو جاتی ہیں۔ہماری جماعت کے لئے بھی یہ زمانہ دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اور بہت زیادہ محنت اور توجہ کے ساتھ ہونے کا زمانہ ہے۔اس لئے یہ زمانہ ہم سے زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔کیا اس لحاظ سے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں سے گزر رہے ہیں اور کیا اس لحاظ سے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس ابتدائی زمانہ کو لمبا کرتا چلا جارہا ہے۔مصلح موعود کی پیشگوئی کے معنی ہی یہ تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کولمبا کر دیا جائے۔گو اس زمانہ کے لمبا ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہوگی مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ثواب بھی ہمیشہ انہیں زمانوں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے ابتدائی زمانوں میں قربانیاں کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ زمانہ بالکل اسی طرح لمبا کر دیا ہے، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے کیا تھا۔یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کے زمانہ کو یوشع نبی تک لمبا کر دیا تھا، اسی طرح حضرت مسیح موعود کے ذریعہ موعود کی پیشگوئی کر ا کر یہ بتادیا کہ یہ زمانہ مصلح موعود کے زمانہ تک لمبا ہو جائے گا۔پس یہ زمانہ ہماری جماعت کے لئے خاص قربانیوں کا زمانہ ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ہمارے زمانہ میں قربانیوں کے لحاظ سے لہریں پیدا ہورہی ہیں اور موجودہ ہر تو بہت زیادہ بلندی تک چلی گئی ہے۔اور ہماری جماعت کو ایسے ابتلا اور ایسی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے، جن کی مثال ہماری گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں مل سکتی۔بے شک پہلے بھی ہماری جماعت پر ابتلا آتے رہے مگر وہ ابتلا محدود ہوتے تھے۔مگر موجودہ ابتلا ایسا ہے، جس میں جماعت کو علاوہ دیگر نقصانات کے ایک بڑا بھاری نقصان یہ بھی پہنچا ہے کہ جماعت کا بیشتر حصہ مرکزی مقام سے کٹا ہوا ہے۔پس یہ زمانہ ہم سے زیادہ سے زیادہ قربانیاں چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ زمانہ ہماری انفرادی اور قومی اصلاح کا بھی تقاضا کر رہا ہے۔کیونکہ ہر قسم کی اقتصادی مشکلات کا ایک سیلاب ہے جو ہم پر انڈا چلا آرہا ہے۔ہم اپنے مرکز سے دور ہو چکے ہیں۔نہ ہمارے پاس دفاتر بنانے کے لئے کوئی جگہ ہے اور نہ اپنے کارکنوں کے ٹھہرانے کے لئے کوئی جگہ ہے۔نہ ہمارے پاس کوئی ایسی جگہ ہے، جہاں ہم سارے اداروں کو اکٹھارکھ سکیں۔نہ ہی کوئی ایسی جگہ 2