تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 129

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 جنوری 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو ہوں کہ مخلصین جماعت اور کارکن بہت جلد اس طرف توجہ کریں گے اور اپنے قدموں کو آگے بڑھانے کی اور توجہ کوشش کریں گے۔اس کے علاوہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ، جماعتیں حفاظت مرکز کے چندے بھی وصول کرنے کی کوشش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں دو سال یعنی 50 ء اور 51 ء خاص طور پر مالی بوجھ کے آئیں گے۔ان دونوں سالوں میں خصوصیت کے ساتھ جماعت پر بہت مالی بوجھ پڑے گا۔اور اس کے بعد بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عارضی طور پر جو مالی دباؤ پڑا ہے، وہ کم ہو جائے گا۔سو جماعت کو ہر وقت یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ یہ دو سال خاص قربانیوں کے ہیں۔بلکہ در حقیقت 46ء سے ہی جماعت پر مالی دباؤ پڑا رہا ہے۔اس لئے پچھلے تین سالوں کو ساتھ ملالیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 5 سال کا عرصہ مالی لحاظ سے خصوصیت سے جماعت کے لئے امتحان اور آزمائش کا عرصہ ہے۔کارکنوں کو چاہئے کہ اگلے دو سال میں وہ اپنے گھروں کو مضبوط کریں۔اور اس عرصہ میں امید کی جاتی ہے کہ سلسلہ کے تجارتی اور صنعتی ادارے اتنی آمد پیدا کرنا شروع کردیں گے کہ سلسلہ کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔اور اگر دیانت دار کارکن مل جائیں تو یہ معمولی بات ہے اور ایک ادنی توجہ کے ساتھ اس ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔خدام الاحمدیہ کو میں دوبارہ اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان کا فرض ہے کہ اس سال وہ کوشش کریں کہ کوئی نوجوان ایسا نہ رہے، جس نے تحریک جدید دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو۔ہر جگہ کے خدام الاحمدیہ ہر فرد کے پاس جائیں اور تسلی کر لیں کہ ایک نو جوان بھی ایسا نہیں رہا ، جس کا تحریک جدید دفتر اول میں حصہ نہیں تھا اور تحریک جدید دفتر دوم میں بھی اس نے حصہ نہیں لیا۔اسی طرح جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ہر جگہ خدام الاحمدیہ قائم نہیں۔میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی جگہوں پر مجلس خدام الاحمدیہ قائم کریں اور کوئی جگہ ایسی نہ رہے، جہاں جماعت احمد یہ موجود ہو اور خدام الاحمدیہ قائم نہ ہو۔تا نو جوانوں میں کام کی جو تحریک کی جائے ، وہ جلد اور بسہولت ترقی کرے۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے لئے وہ خود ہی ہر قسم کے رستے کھولے گا۔لیکن میہ اس کی عنایت ہے کہ وہ ہمیں کام کا موقع دے رہا ہے۔پس مبارک ہے، وہ شخص جسے خدا تعالیٰ نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا ، جس کی امید لگائے ہوئے بڑے بڑے صلحاء اور اولیاء اور بزرگ سینکڑوں سال سے انتظار کر رہے تھے۔اور مبارک ہے، وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کر کے اسے حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کی بھی توفیق بخشی ، جس کی انتظار سینکڑوں سال سے دنیا کر رہی تھی۔اس کی اہمیت اس بات سے معلوم ہوسکتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ 129