تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 1
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948ء ڈر ہے کہ قربانیوں اور چندوں میں ستی دکھانے والے دیوالیہ نہ ہو جائیں خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948ء سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گذشتہ سفر میں شاید ہوا لگ جانے کی وجہ سے میری طبیعت کل سے زیادہ خراب ہے۔اسی لئے کل میں نمازوں میں بھی نہ آسکا۔آج صبح طبیعت اچھی تھی لیکن اس وقت پھر حرارت کی وجہ سے تکلیف ہورہی ہے۔اس لئے آج میں جمعہ اور عصر کی نمازیں بھی جمع کرا کے پڑھاؤں گا اور خطبہ بھی طبعا مختصر ہی دے سکتا ہوں۔دنیا میں ایک قانون قدرت ہے، جو اس کے ہر شعبہ میں کام کرتا ہوا ہمیں نظر آتا ہے۔وہ قانون قدرت یہ ہے کہ ہر چیز کے متعلق ایک زمانہ اس کے بونے کا ہوتا ہے اور ایک زمانہ اس کے کاٹنے کا ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا قانون قدرت ہے، جو دنیا کی ہر چیز میں ہمیں کارفرما نظر آتا ہے۔درخت ہیں، ان کے لئے بھی سال میں ایک زمانہ بونے کا ہوتا ہے تو دوسرا کاٹنے کا فصلیں ہیں تو ان کے لئے بھی سال میں ایک بونے کا زمانہ آتا ہے تو دوسرا کاٹنے کا۔اسی طرح انسانوں کی حالت ہے۔انسان بھی اسی طرح بویا جاتا اور کاٹا جاتا ہے۔ایک زمانہ تو انسان پر ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے اندر نسل پیدا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔مگر پھر ایک زمانہ اس پر ایسا بھی آتا ہے کہ یہ قابلیت اس کے اندر سے مفقود ہو جاتی ہے۔اور اس وقت وہ اپنی پہلی پیدا شدہ نسل سے ہی فائدہ اٹھارہا ہوتا ہے یا نقصان برداشت کر رہا ہوتا ہے۔یعنی ایک نسل جو اس نے بوئی تھی اس کی نیک یا بد تربیت کرنے کی وجہ سے اسے اجر یا سزامل رہی ہوتی ہے۔اگر اس نے اپنی نسل کی تربیت اچھی کی ہوئی ہو تو اسے نیک پھل ملتا ہے اور اگر تربیت اچھی نہ کی ہوئی ہو تو وہ اس کا خمیازہ بھگتا ہے۔اسی طرح قوموں کی بھی حالت ہوتی ہے۔ان کے لئے بھی ایک زمانہ ہونے کا اور ایک زمانہ کاٹنے کا مقدر ہوتا ہے۔قوموں کے بونے کا زمانہ تو وہ ہوتا ہے، جب تو میں اپنی بقا کے لئے قربانیاں کرتی ہیں اور کاٹنے کا زمانہ وہ ہوتا ہے، جب وہ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہیں۔انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ بونے کا ہوتا ہے اور آخری زمانہ کاٹنے کا ہوتا ہے۔یعنی انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ جماعت کے افراد سے انفرادی اور اجتماعی قربانیوں کا متقاضی ہوتا ہے۔مگر اس قربانیوں کے زمانہ میں بھی 1