تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 126
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کرنا ہی ان کے لئے پھول ہیں۔گلاب کے پھول ان کے کام نہیں آتے ، عقیدت کے پھول ان کے کام آتے ہیں۔اور یہ صحیح ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں، ان کے مزاروں پر دعا کرنا بسا اوقات بہت بڑی برکتوں کا موجب ہو جاتا ہے۔ان سے مانگنا جائز نہیں ، ہاں کی ان کی قربانی یاد دلا کر خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔جیسے حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قحط پڑا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم آپ کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا مانگا کرتے تھے۔اب وہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں، ان کے چچا عباس کا واسطہ دے کر تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اس قحط کو دور فرما۔جیسے لوگ کہتے ہیں، بچوں کا صدقہ۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے بھی اس کے پیاروں کا واسطہ دے کر مانگنا جائز ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ماریشس اس بات کا مستحق تھا کہ اس میں کسی صحابی یا کسی ایسے تابعی کی، جس کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب پہنچتا ہو، قبر ہو۔تاوہ اس کے مزار پر خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں۔میں نے صحابی یا تابعی اس لئے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ حافظ صاحب مرحوم صحابی تھے یا نہیں۔جب سے میں انہیں دیکھتا رہا ہوں، وہ حضرت خلیفة المسیح اوّل کا زمانہ تھا اور اگر میرے دیکھنے پر اس کی بنیاد ہو تو وہ تابعی تھے۔میں دوسرے نو جوانوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ احمدیت کی ترقی بغیر قربانی اور بغیر وقف کے نہیں ہو سکتی۔انہیں بھی اس چیز کا احساس ہونا چاہیے۔سینکڑوں ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کیا۔مگر سینکڑوں انتظار کرنے والے بھی آگے آئیں تا ان کے نام خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں لکھے جائیں۔126 (مطبوعه روزنامه الفضل 12 فروری 1950ء)