تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 125

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 دسمبر 1949ء نے اصرار کیا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں۔لڑکوں کے متعلق انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے تو میں نے کہا اچھا انہیں یہاں بھیج دو۔چنانچہ ان کا ایک لڑکالا ہور پڑھتا ہے اور سلسلہ کی طرف سے اسے امداد دی جاتی ہے۔لیکن قادیان سے نکلنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ انہوں نے نیا ماحول تو دیکھا نہیں، اس لئے انہیں واپس بلا لیا جائے اور اس نئے ماحول سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے۔میں نے انہیں واپس آنے کی اجازت دی۔لیکن جب اس حکم پر عمل کرنے کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں واپس بلالیا۔تا وہ اپنے عہد کو پورا کرنے والے بنیں اور منهم من قضى نحبہ کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔اس آیت قرآنیہ میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ منهم من قضى نحبه کچھ تو ایسے صحابہ نہیں ، جنہوں نے موت تک اپنے عہد کو نہایا ہے۔ومنهم من ينتظر اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں موقع ملے تو وہ اپنے عہد کو پورا کریں“۔ہماری جماعت میں بھی خدا تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کئے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ حافظ جمال احمد صاحب بھی انہیں میں سے تھے۔جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ منهم من قضى نحب۔وہ یہاں سے عہد کر کے گئے تھے کہ وہ وہیں کے ہور ہیں گے۔جب ہم نے چاہا کہ وہ آجائیں۔تو خدا تعالیٰ نے کہا نہیں میں ان کا عہد پورا کروں گا۔ماریشس ایک ایسا ملک ہے، جہاں بہت ابتداء سے ہمارے مشن جارہے ہیں۔میری خلافت کے دوسرے یا تیسرے سال سے وہاں مشن جارہے ہیں۔ایسے پرانے ملک کا بھی یہ حق تھا کہ وہ کسی صحابی یا تابعی کی قبر اپنے اندر رکھتا ہو۔ہم شرک نہیں کرتے ، ہم قبروں پر سے مٹیاں لینے والے نہیں ، ہم قبروں پر پھول چڑھانے والے نہیں۔ہمیں تو یہ بھی سن کر تعجب آتا ہے کہ ابن سعود کے نمائندے بھی قبروں پر پھول چڑھانے لگ گئے ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ اگر کوئی پھول چڑھانے کی مستحق قبر تھی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر تھی۔کیا حضرت ابوبکر " کو پھول نہ ملے کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر پھول چڑھاتے ؟ کیا حضرت عمر کو پھول نہ ملے کہ وہ آپ کے مزار پر پھول چڑھاتے ؟ اگر آپ کے مزار پر ان بزرگوں نے پھول چڑھائے ہوتے تو ہم اپنے خون سے پھولوں کے پودوں کو سینچتے تا آپ کے مزار پر پھول چڑھائیں۔مگر افسوس زمانے بدل گئے اور ان کی قدریں بدل گئیں۔لیکن ہم موحد ہیں ، مشرک نہیں۔بلکہ ہمیں تو ان موحدوں پر افسوس آتا ہے، جو تو حید پر عمل کرتے تھے لیکن اب ان کے نمائندے قبروں پر جاتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں۔دنیا میں جو لوگ اچھے کام کر جاتے ہیں، ان کی قبروں پر جانا اور ان کے لئے دعائیں 125