تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 124

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلدسوم ادھر حافظ صاحب مرحوم کی حالت ایسی تھی کہ انہیں اپنے بیوی بچے اپنے پیچھے رکھنے مشکل تھے۔میں نے کہا میں آپ کو بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دیتا ہوں مگر اس شرط پر کہ آپ کو ساری عمر کے لئے وہاں رہنا ہوگا۔اس وقت کے حالات کے ماتحت انہوں نے یہ بات مان لی اور سلسلہ اور ان کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ایک لمبا عرصہ کے بعد جب ان کے لڑکے جوان ہوئے اور لڑکی بھی جوان ہوئی۔انہوں نے مجھے تحریک کی کہ میرے بچے جوان ہو گئے ہیں، اس لئے ان کی شادی کا سوال در پیش ہے۔آپ مجھے واپس آنے کی اجازت دیں تا بچوں کی شادی کا انتظام کر سکوں۔لیکن میری طبیعت پر چونکہ یہ اثر تھا کہ وہ یہ عہد کر کے وہاں گئے تھے کہ ہمیشہ وہیں رہیں گے ، اس لئے میں نے انہیں لکھا کہ آپ کو اپنے عہد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اپنا عہد یاد ہے لیکن میری لڑکی جوان ہوگئی تھی ، جس کی وجہ سے مجھے واپس آنے کی ضرورت پیش آئی۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں یہیں رہوں تو میں اپنی درخواست واپس لے لیتا ہوں۔بعد میں محکمہ کی طرف سے بھی کئی دفعہ تحریک کی گئی کہ انہیں واپس بلا لیا جائے۔لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ انہوں نے عہد کیا ہوا ہے اور اس عہد کے مطابق انہیں وہیں کا ہورہنا چاہیے۔ابھی کوئی دو ماہ ہوئے، میں نے سمجھا کہ چونکہ اب حالات بدل چکے ہیں اور اب نیا مرکز بنا ہے، اس لئے ان کو بھی نئے مرکز سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا چاہیے، میں نے انہیں یہاں آنے کی اجازت دے دی اور محکمہ نے انہیں واپس بلوا بھیجا۔لیکن خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں۔جب تک ان کی اپنی خواہش واپس آنے کی تھی، وہ زندہ رہے۔چونکہ وہ آخری اختیار رکھنے والے نہیں تھے، اس لئے اپنی خواہش کے مطابق وہ واپس نہیں آسکتے تھے لیکن جب میں نے اجازت دے دی تو خدا تعالیٰ نے کہا اب ہم اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں اور انہیں وہیں وفات دے دی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سارے واقعات اپنے اندر ایک نشان رکھتے ہیں۔ایک شخص عہد کرتا ہے اور سالہا سال تک اس پر پاپند رہتا ہے۔اس کے بعد وہ اسے توڑتا نہیں مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے واپس آنے کی اجازت مانگتا ہے۔لیکن میں اصرار کے ساتھ ان کی درخواستیں رد کرتا چلا جاتا ہوں اور وہ چپ کر جاتا ہے۔پھر محکمہ بھی اس کے بلانے پر اصرار کرتا ہے لیکن میں اسے واپس بلانے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ بھی نہیں کہ حافظ صاحب کوئی بڑی عمر کے تھے ، شاید وہ مجھ سے چھوٹے تھے۔انہوں نے جب خود واپس آنا چاہا تو میں نے ان کی درخواستیں رد کر دیں۔جب محکمہ نے ان کے واپس بلانے پر اصرار کیا تب بھی میں 124