تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 123
ر یک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلدسوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 دسمبر 1949ء احمدیت کی ترقی بغیر قربانی اور بغیر وقف کے نہیں ہو سکتی خطبہ جمعہ فرمودہ 30 دسمبر 1949ء ” جب میں خطبہ پڑھنے کے لئے مسجد میں آنے لگا تو مجھے ایک تار ملی۔جو تار مجھے ملی ، وہ ایک دو گھنٹہ پہلے کی گئی تھی لیکن پڑھی نہیں جاتی تھی۔بعد میں دفتر والوں سے مل کر اسے پڑھا۔اس تار سے ایک افسوس ناک خبر ملی ہے، جس کی وجہ سے میں نے خطبہ کے موضوع کو بدل دیا۔اب میں اسی بارہ میں خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں۔یہ تار جس کا میں نے ذکر کیا ہے، ماریشس سے ملی ہے اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے وہاں کے مبلغ حافظ جمال احمد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اچانک بیماری آئی ہے۔کیونکہ اس سے پہلے ان کی بیماری کی کوئی خبر نہیں آئی۔حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اپنے اندر ایک نشان رکھتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب وہ ماریشس بھیجے گئے تو اس وقت جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔اتنی کمزور کہ ہم کسی مبلغ کی آمد ورفت کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔میں نے تحریک کی کہ کوئی دوست اس ملک میں جائیں۔اس پر حافظ صاحب مرحوم نے خود اپنے آپ کو پیش کیا یا کسی اور دوست نے تحریر کیا کہ حافظ جمال صاحب کو وہاں بھیج دیا جائے۔چونکہ پہلے وہاں صوفی غلام محمد صاحب مبلغ تھے اور وہ بھی حافظ تھے، اس لئے احباب جماعت نے وہاں ایک حافظ کے جانے کو ہی پسند کیا۔گو صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے تھے اور ان کی عربی کی لیاقت بھی بہت زیادہ تھی اور حافظ جمال احمد صاحب غالباً مولوی فاضل نہیں تھے۔ہاں عربی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی اور قرآن کریم حفظ کیا ہوا تھا۔لیکن بہر حال انہیں صوفی صاحب کی جگہ مبلغ بنا کر ماریشس بھیج دیا گیا۔حافظ صاحب کی شادی مولوی فتح الدین صاحب کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی ، جنہوں نے شروع شروع میں پنجابی میں کا من لکھے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے کے تعلق رکھنے والے دوستوں میں سے تھے۔ان کے سسرال کے حالات کچھ ایسے تھے کہ ان کے بعد ان کے بیوی بچوں کا انتظام مشکل تھا، اس لئے انہوں نے مجھے تحریک کی کہ انہیں بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔چونکہ اس وقت سلسلہ کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ پیسے پیسے کا خرچ بو جھل معلوم ہوتا تھا۔اور 123