تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 113

خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم افریقہ کے تو ایک مبلغ کو میں نے واپس بلا لیا ہے اور دفتر والوں کو ہدایت دی ہے کہ اس سے آئندہ تبلیغ کا کام نہ لیا جائے بلکہ دفتر میں کلرک کا کام لیا جائے۔مگر مجھے اطلاع نہیں ملی ، آیا میرے اس حکم پر عمل کیا گیا ہے یا نہیں؟ بلکہ مجھے شبہ ہے کہ اس کو بھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔لیکن بہر حال خواہ اس کے ہمدرد اور دوست اس پر کتنا ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کریں ، وہ اس پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے۔انڈونیشیا سے بھی ایسی اطلاع آئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جو نیز مبلغ سینئر مبلغ کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے ہیں اور وہ لوگوں کو ان کے خلاف ابھارتے ہیں۔اب انگلینڈ سے یہ اطلاع آئی ہے کہ افسر نے اپنے ماتحت کو کوئی حکم دیا مگر اس نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ ظلمانہ حکم ہے، میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔حالانکہ وہ حکم صرف یہی تھا کہ ہمارے سلسلہ کے پرانے کارکن مفتی محمد صادق صاحب کو کوئی مضمون چاہئے تھا۔جس رسالہ میں وہ چھپا تھا، اس کا حاصل کرنا مقصود تھا۔انہوں نے انگلینڈ کے مبلغ انچارج کو لکھا کہ اس کی نقل مجھے بھجوادی جائے یا یہ لکھا کہ اس کی نقل فلاں آدمی کو جوز برتبلیغ ہے، بھجوا دی جائے۔اس نے اپنے ماتحت مبلغ کو کہا کہ اس مضمون کی ایک نقل ٹائپ کر دے۔لیکن اس نے کہا کہ یہ ظالمانہ حکم ہے، میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ سلسلہ کے پکے دشمن ہیں۔وہ اپنی زندگیاں وقف کریں یا اپنا کوئی اور نام رکھ لیں۔بھلا اس سے زیادہ جہالت کی بات اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص نظم میں فرق کرے؟ دنیا میں کتنی حکومتیں چل رہی ہیں، ان میں کسی ماتحت افسر کو یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اعلیٰ افسر کا حکم ماننے سے انکار کر دے۔لیکن ہمارے مبلغین اپنے افسروں کا حکم نہیں مانتے اور ان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے خلاف ابھارتے ہیں۔اس کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ جوتیاں نہیں مارسکتا، دنیوی افسر جوتیاں مار سکتے ہیں۔اور چونکہ یہ لوگ جو تیاں مار سکتے ہیں، اس لئے ان کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ چونکہ جو تیاں نہیں مارتا ، اس لئے لوگ بے ایمان ہو جاتے ہیں اور اس کی گرفت کو نہیں پہچانتے۔میں مرکزی کارکنوں کو بھی نصیحت کروں گا کہ اس کی ایک حد تک ذمہ داری ان پر بھی ہے۔ان میں سے بعض ذاتی تعلقات کو سلسلہ کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔کسی کا کوئی رشتہ دار یا دوست آگیا اور اس نے کوئی بات کہہ دی تو اس کا کام کر دیا۔میں ایسے لوگوں کو بھی خواہ وہ افسر ہوں یا ماتحت یہ کہوں گا کہ سلسلہ خدا کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر میں مرجاؤں گا تو خدا تعالیٰ مجھ سے بہتر آدمی کھڑا کرے گا ، جو اس کو چلائے گا۔جب تک آسمان کا فیصلہ زمین پر صادر نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کمزور نہیں ہوسکتا۔پس یہ لوگ یہ خیال نہ کر لیں کہ چلو اس خلیفہ کو ٹرخاتے جاؤ، دوسرے سے ہم بچ جائیں گے۔یہ یا درکھو جو حالات خلافت اولی میں پیدا ہوئے تھے، وہ یہاں پیدا نہیں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت میں تو 113