تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 108

خطبہ جمعہ فرمود و 25 نومبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہیں۔سوائے ان کے ، جو ملازمتوں سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔ان کے لئے رعایت کے وہی قواعد ہیں، جن کا پہلے اعلان کیا جا چکا ہے اور جو فوت ہو گئے ہیں، ان کے چندے جاری سمجھیں جائیں گے۔کیونکہ موت ان کے اختیار میں نہ تھی۔سوائے ان کے، جن کے عزیزوں نے ان کو ثواب پہنچانے کے لئے ان کے چندے کو جاری رکھا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کے لئے اس کا ثواب لکھتا رہے گا۔دفتر دوم کے لئے نو جوانوں کو خصوصاً خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ جہاں جہاں بھی ہوں ، پورے زور کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور دوسروں کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دلائیں۔انہیں چاہئے کہ وہ سارے شہر اور علاقہ میں پھریں، خود وعدے لکھوائیں اور جو لوگ اس میں شامل نہیں ہیں یا جو لوگ مصنوعی طور پر اس میں شامل تھے ، یعنی ان کے برسر روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے والدین نے رسمی طور پر ان کی طرف سے حصہ لیا ہوا تھا یا جن لوگوں نے پورے طور پر اس میں حصہ نہیں لیا تھا، ان لکھوائیں اور زیادہ سے زیادہ لکھوائیں اور پھر ان کی وصولی کی طرف بھی توجہ دیں۔میں نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا بار اسی لئے اٹھایا ہے تا جماعت کے نوجوانوں کو دین کی طرف توجہ دلاؤں۔سو میں سب سے پہلے ان کے سپرد یہ کام کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کا ثبوت دیں گے اور آگے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔اور کوئی نوجوان ایسا نہیں رہے گا، جو دفتر دوم میں شامل نہ ہو۔اور کوشش کریں سے وعدے کہ ساری کی ساری رقم وصول ہو جائے۔پہلی غلطیاں جو سرزد ہوئی ہیں، ان کا بھی ازالہ کریں۔اگر گزشتہ سالوں کے بقائے وصول ہو جائیں تو دو، اڑھائی لاکھ روپیہ آجاتا ہے۔ابھی بہت سے کام ہیں، جو ہم نے کرنے ہیں۔تحریک جدید کا بہت سا قرض باقی ہے، جو ادا کرنا ہے۔اور ابھی بعض جگہوں پر جہاں مشن قائم ہو چکے ہیں، مسجدیں تیار کرنی ہیں اور یہ کام روپیہ چاہتے ہیں۔لیکن پہلے ہمارا فرض ہے کہ اپنا قرض اتاریں۔میں دیکھتا ہوں کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے چندے جس نسبت سے بڑھ رہے ہیں، اس نسبت سے ہمارے چندے نہیں بڑھ رہے۔مثلاً گولڈ کوسٹ کی جماعت نے اس سال ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا ہے۔اب انہوں نے ایک لاکھ روپیہ اس کالج کے لئے بھی دینے کا وعدہ کیا ہے، جو وہاں بنایا جائے گا۔دیکھو وہ کتنی نئی اور چھوٹی جماعت ہے لیکن وہ اپنی قربانی کو بڑھا رہی ہے۔اس طرح مجھے اس بات سے بھی خوشی ہوئی ہے کہ ہندوستان کی جماعتوں نے ، جو قادیان کے مرکز کے ساتھ وابستہ ہیں، قربانی میں معتد بہ حصہ لیا ہے۔کجا یہ حالت تھی کہ ان کی طرف سے کوئی رقم وصول نہیں ہورہی تھی اور کجا یہ کہ اس سال ان کا بجٹ ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جماعت کا صرف آٹھ فی صدی ہیں۔گو ضرورت اس 108