تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 106
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم صبح کو کا فراٹھتے ہیں مگر جب رات کو سوتے ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں۔اور دنیا تیز قدمی کے ساتھ بھاگتی دوڑتی اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جاتی ہے۔ہم موجودہ زمانہ کی ترقی پر قیاس نہیں کر سکتے۔ہم اس الہی سنت کو دیکھتے ہیں، جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ چلتی چلی آئی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلے 13 سال والی ترقی کو مد نظر رکھا جائے تو پہلے تیرہ سال میں صرف اڑھائی، تین سو آدمی ایمان لائے تھے۔اگر بعد میں بھی یہی رفتار ترقی رہتی تو 1300 سال میں صرف 30 ہزار مسلمان ہوتے۔مگر اب تو میں لاکھ بھی نہیں تمہیں کروڑ بھی نہیں، دنیا میں ساٹھ کروڑ مسلمان ہیں۔کتنے گندے ہی سہی مگر اسلام کا نام تو لیتے ہیں۔لیکن اگر وہی رفتار ترقی رہتی، جو پہلے تیرہ سال میں حاصل ہوئی تو آج تیرہ سو سال کے بعد صرف تیس ہزار مسلمان ہوتا۔لیکن ہیں 60 کروڑ۔یعنی 20 ہزار گنا زیادہ ہیں۔گویا جس قدم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلے 13 سالوں میں چلے تھے ، بعد میں آنے والے سالوں میں اس سے ہیں ہزار گنازیادہ چلے۔لیکن میں اس میں بھی غلطی کر رہا ہوں۔پچھلے پانچ سو سال سے تو مسلمان گر رہے ہیں۔اس لئے مسلمانوں کی جو تعداد بڑھی، وہ اس ترقی کا نتیجہ ہے، جو انہوں نے پہلی تین، چار صدیوں میں کی۔اگر مسلمانوں کی موجودہ ترقی کو پہلی چند صدیوں تک پھیلایا جائے تو گویا جس قدم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلے 13 سالوں میں چلے تھے ، بعد میں آنے والے سالوں میں اس سے میں لاکھ گنا زیادہ چلے۔اسی رنگ میں اگر ہماری ترقی ہو اور ہیں لاکھ کو ہماری موجودہ تعداد سے ضرب دو تو دنیا پر کوئی آدمی باقی نہیں رہ جاتا۔دنیا کی ساری آبادی دوارب ہے۔گویا اگر موجودہ حالت سے ہم ہیں لاکھ گنا زیادہ ترقی کریں تو دس کھرب ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہمیں موجودہ حالت سے قریباً ساڑھے چار ہزار گنا زیادہ رفتار کی ضرورت ہے۔ہمیں لاکھ گنا زیادہ رفتار کی نہیں۔غرض ہم اپنی آئندہ ترقی کو موجودہ رفتار پر قیاس نہیں کر سکتے۔لیکن بہر حال فتح کے لئے کچھ وقت تو چاہئے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ترقی میں تین سو سال لگے تھے۔ہمارے مسیح محمدی ہیں، موسوی نہیں۔اس لئے اگر اس سے آدھا زمانہ بھی لے لو تو ایک سو پچاس سال بنتے ہیں۔275 سال میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی جماعت کو ایک ملک یعنی روم کی حکومت ملی تھی۔اگر اس مدت کا نصف لے لیں تو ایک سو سینتیس سال میں ہمیں ایک حکومت مل سکتی ہے۔ہماری جماعت پر ساٹھ سال گزر چکے ہیں تو گویا آئندہ 77 سال کے عرصہ میں ہمیں ایک حکومت مل جانی چاہئے۔ہمارے ہاں اوسط عمر 30 سال ہے۔لیکن اگر اوسط عمر 25 سال لے لی جائے تو 77 سال میں تین نسلیں ہوئیں۔اور موجودہ نسل کو ملا کر چار ہوئیں۔گویا چار نسل میں ہم چھوٹی سے چھوٹی 106