تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 105

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم جس تک پہلی تحریک پہنچی تھی۔یقیناً اس وقت کی جماعت ، اس جماعت سے بہت زیادہ ہے، جو 34 ء میں تھی۔اور یقیناً بہت سے نئے آدمی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔جو تجارتوں، نوکریوں ، کمائی اور علم کے لحاظ سے اس جماعت کے افراد سے بہت زیادہ ہیں، جو 1934ء میں تھی۔اور بہت سے نوجوان ایسے ہیں، جن کو اب نوکریاں ملی ہیں۔پہلے انہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا یا پہلے ماں باپ نے رسمی طور پر ان کی طرف سے حصہ لیا ہوا تھا۔اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ان پر اتنی ذمہ داریاں نہیں ، جو پہلوں پر ہیں ، کیونکہ ان میں سے اکثر اہل وعیال والے تھے اور یہ نوجوان یا غیر شادی شدہ ہیں یا ان کے اولاد نہیں ، اس نئی تحریک کے وقت ان سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ پہلوں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔لیکن پانچ سالہ دور کے بعد ان کے وعدے صرف ایک لاکھ پندرہ ہزار تک پہنچے ہیں۔اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے وصولی بھی بہت کم ہوئی ہے۔مثلاً پانچویں سال کے وعدوں میں سے صرف 46 یا 47 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں نو جوانوں کے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ٹی پور پروہ اعتماد نہیں کر سکتے، جو پہلوں پر کیا جاسکتا تھا۔لیکن ہمارا سفر ابھی بہت لمبا ہے، ہمارا کام بہت بڑا ہے، ہماری منزل ابھی بہت دور ہے۔ان حالات میں ایک یا دو نسل کا سوال نہیں ، اسلام کی فتح تک شاید پانچ یا چھ نسلیں لگ جائیں۔گی۔کیونکہ اسلام کی کامل فتح کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کا اکثر حصہ مسلمان ہو جائے۔اسلام کی فتح کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کی اکثر حکومتیں مسلمان ہو جائیں۔یہ دن کتنی دور ہیں؟ جس رفتار سے ہم چل رہے ہیں، اس رفتار سے شاید ہمیں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے کئی ہزار سال چاہئیں۔لیکن الہی سنت یہ ہے کہ الہی جماعتوں کی رفتار پہلے ست ہوتی ہے، پھر الہی نشانوں کے ساتھ یکدم ترقی ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے دعویٰ نبوت سے دس سال بعد تک آپ پر صرف 80 یا 90 آدمی ایمان لائے اور تیرہ سال کے بعد آپ پر ایمان لانے والے صرف اڑھائی ، تین سو تھے۔لیکن پھر یکدم آپ کی امت بڑھنی شروع ہوئی اور جہاں تیرہ سال میں صرف اڑھائی، تین سو آدمی آپ کی امت میں شامل ہوئے تھے ، وہاں اگلے آٹھ سال میں سارا عرب مسلمان ہو چکا تھا۔پس گو پہلے رفتار سست تھی لیکن بعد میں رفتار ترقی تیز ہوگئی۔اسلام کے تنزل کے زمانہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگ رات کو مسلمان سوئیں گے اور صبح کو کافر اٹھیں گے۔لوگ صبح کو مسلمان اٹھیں گے اور رات کو کا فرسوئیں گے۔لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ قول الٹ جاتا ہے۔دین کی فتح اور کامیابی کا جب وقت آتا ہے تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ لوگ رات کو کا فر ہوتے ہیں، صبح کو اٹھتے ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں۔105