تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 104

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم پھر یہ تحریک جاری رہی اور بڑھتی رہی، یہاں تک کہ دسویں سال جماعت کا تین لاکھ روپیہ کا وعدہ تھا۔پھر میں نے کہا کہ دس سال نہیں، میں اس تحریک کو انہیں سال چلانا چاہتا ہوں۔اور نو جوان اور ان احمدیوں کے لئے ، جو اس تحریک کے بعد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں، نئی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اس وقت کہا کہ پچھلی تحریک میں حصہ لینے والوں میں سے، جو چاہیں ، اپنے نویں سال کے وعدہ کے برابر دے سکتے ہیں۔پھر اگلے سال ، وہ اپنے آٹھویں سال کے وعدہ کے برابر دیں۔اسی طرح وہ آئندہ اپنے وعدوں میں کمی کرتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ انیسویں سال، ان کا وعدہ پہلے سال کے وعدہ کے برابر ہو جائے۔لیکن ہوا یہ کہ بہت کم لوگوں نے اس رخصت سے فائدہ اٹھایا اور گیارھویں سال بھی باوجود میری اس رعایت کے اڑھائی لاکھ روپیہ وصول ہوا۔اور اب قریباً تین لاکھ کے وعدے آتے ہیں۔گویا بجائے پیچھے ہٹنے کے جماعت آگے کی طرف بڑھی ہے۔یہ تحریک اسی طرح چلتی گئی۔یہاں تک کہ ہمیں قادیان سے نکلنا پڑا اور مشرقی پنجاب اور ہندوستان کے بعض اور علاقوں کے لوگ اپنے مرکزوں سے ہل گئے اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔لیکن باوجود اس کے جو تحریک 1947ء میں ہوئی ، وہ 1946 ء کی تحریک سے کم نہیں تھی۔اور وصولی کا حال بھی قریباً ویسے ہی رہا۔پھر 1948ء میں جو تحریک ہوئی ، وہ 1947ء کی تحریک سے کم نہیں تھی۔لیکن 1948 ء ) کی تحریک کے متعلق میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کی وصولی کی نسبت وہ قائم نہیں رہی، جو پہلے سالوں کی رہی ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں، پچھلے سالوں میں سو فیصدی سے بھی زیادہ وصولی ہوئی۔لیکن اس دفعہ جو وصولی ہوئی ہے، وہ کوئی 70 فیصدی کے قریب ہے۔گویا 30 فیصدی وعدے ابھی واجب الا دا ہیں۔اور جیسا کہ میں پہلے اعلان کر چکا ہوں، یہ وصولیاں جاری رکھی جاتی ہیں۔سوائے ان لوگوں کے جو بلا عذر چندہ ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔انہوں نے بقایا کیا ادا کرنا ہے، وہ تو ایک دن خدا کی جماعت سے نکالے جائیں گے۔باقی لوگ، جو مجبوری کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ باوجود ان کی کمزوری کے اللہ تعالیٰ انہیں پورا ثواب دے دیتا ہوگا۔اور وہ بھی ناخنوں تک زور لگا دیں گے کہ اپنے بقائے بھی صاف کریں اور آگے کی طرف بھی قدم بڑھا ئیں۔لیکن جو لوگ غفلت اور سستی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور قربانی کی پوری کوشش نہیں کرتے ، وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں اس مقام پر نہیں پہنچ سکتے ، جس مقام پر وہ لوگ پہنچتے ہیں، جو دین کے لئے اپنی جان تک لڑا دینے میں دریغ نہیں کرتے۔نومبر 44ء میں جونئی تحریک کی گئی تھی اور نو جوانوں اور احمدیت میں نئے داخل ہونے والوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس میں حصہ لیں ، میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تحریک اس شان تک نہیں پہنچی ، 104