تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 93
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 107 کتوبر 1949ء ان ممالک سے کمائی کر سکیں گے۔مگر جب ان پر حقیقت کھلی کہ یہ تو قربانی کا مطالبہ کرنے والی جماعت ہے تو ان کا گروہ کا گروہ الگ ہو گیا۔اب عبد اللطیف صاحب، جو وہاں کے مبلغ ہیں، اپنے طرز پر جماعت بنانے "" کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ خاموش طبیعت نوجوان ہے مگر اچھا کام کرنے والا ہے۔پس میرا یہ منشاء نہیں کہ ہمارے نوجوانوں نے ہر موقع پر نا کامی اور نامرادی کا طریقہ اختیار کیا۔ان میں سے بعض نے نہایت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔خصوصا ان نو جوانوں نے ، جو غیر ممالک میں گئے۔مگر جو نو جوان ہمارے مرکز میں کام پر لگے ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے نکلے ہیں کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ، لڑائی جھگڑے میں ہی اپنا وقت گزارتے رہتے ہیں۔اور ان کی بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کوئی عہدہ مل جائے ، کوئی اختیار حاصل ہو جائے۔حالانکہ عہدہ اور اختیار سے کام نہیں چلتا۔کام کرنے سے کام ہوا کرتا ہے“۔۔پس اگر جماعتوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو مخلصین سے کہتا ہوں تم ہمت کرو، آگے بڑھو اور ان کی کمزوری کو تبلیغ اور ارشاد کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کرو۔اور پھر جو کمی ان کے ارتداد سے سلسلے کے اموال میں ہو، اس کو خود اپنے چندے بڑھا کر پورا کرو۔یہ کوئی سوال نہیں کہ سیکر یٹری کون ہے اور پریذیڈنٹ کون؟ دیکھو وہ ہمارے مرکزی سیکریٹری ہی تھے، جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم اتنا مال جمع نہیں کرتا سکتے کہ مبلغوں کے اخراجات کے لئے روپیہ دے سکیں۔مگر ہمارے نوجوانوں نے کہا کہ آپ لوگ اگر ہمیں روپیہ نہیں بھجواتے تو بے شک نہ بھیجوائیں، ہم ٹوکریاں اٹھا ئیں گے اور اپنے لئے آپ گزارہ پیدا کریں گے۔اور انہوں نے ایسا کر کے دکھا دیا۔اسی طرح مقامی جماعتوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ اگر کام نہیں کرتے تو تم خود افراد جماعت کو بیدار کرو اور ان کے اندر ایک نئی زندگی اور نئی روح پیدا کرنے کی کوشش کرو۔یہ بیداری کا وقت ہے، یہ کام کرنے کا وقت ہے۔یہ سونے اور غافل ہو جانے کا وقت نہیں۔تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سکریٹری اور پر پیزیڈنٹ سمجھے۔اور تم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سلسلے کا ذمہ دار سمجھے۔جب تم میں سے ہر شخص کا ایمان اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ وہ سمجھے گا کہ سلسلہ کی عمارت کا بوجھ مجھ پر ہی ہے۔میں ہی وہ ستون ہوں، جس پر احمدیت کی چھت قائم ہے۔اگر میں ہلا تو احمدیت بھی مل جائے گی۔تب تمہیں وہ مقام میسر آجائے گا کہ کوئی آفت تمہارے سر کو نیچا نہیں کر سکے گی ، کوئی مصیبت تمہارے قدموں کو ڈگمگا نہیں سکے گی اور کوئی ابتلا تمہیں ہراساں نہیں کر سکے گا۔کیونکہ تم میں سے ہر شخص ایک چھوٹا نمونہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوگا۔اور تم سمجھو گے کہ کام ہم نے کرنا ہے کسی اور نے نہیں کرنا۔اور جب کسی جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں تو وہ جماعت کبھی مٹ 93