تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 630

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اصل بات یہ ہے کہ نواب رضوی صاحب نے ، جو ان دنوں بمبئی میں رہتے تھے، انہیں ایک سال کا خرچ دیا تھا کہ وہ انگلستان جائیں اور ان کے مقدمہ کی پیروی کریں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہ دیا تھا۔کہ اگر وہ چاہیں تو اسلام کی تبلیغ بھی کریں۔نواب رضوی کو اتفاقیہ طور پر دولت ہاتھ آگئی تھی۔کیونکہ ان کی شادی نظام حیدرآباد عثمان علی صاحب کی پھوپھی زاد بہن سے ہوئی تھی اور شادی بھی خفیہ طور پر ہوئی۔نواب رضوی چونکہ صرف ایک وکیل تھے، اس لئے نظام حیدر آباد یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی پھوپھی زاد بہن کی ان سے شادی ہو۔وہ چونکہ بادشاہ تھے، اس لئے اسے اپنی ہتک خیال کرتے تھے۔اور بیگم کے باپ کی چالیس، پچاس لاکھ روپیہ سالانہ کی جائیداد تھی اور اس نے اس جائیداد کا ایک بڑا حصہ نواب رضوی کو دے دیا تھا۔نواب رضوی بمبئی آگئے اور نظام حیدر آباد سے انہیں عدالت میں نالش کرنے کی دھمکی دی۔اس پر انہوں نے خواجہ کمال الدین صاحب کو سفر کے اخراجات کے علاوہ سال بھر کے قیام کے اخراجات بھی دیئے تا کہ وہ انگلستان میں جاکر ان کا مقدمہ بھی لڑیں اور اپنی خواہش کے مطابق تبلیغ بھی کریں۔گویا خواجہ صاحب کو اتفاقی طور پر ایک ایسا آدمی مل گیا تھا، جس نے انہیں ایک سال کا خرچ دے دیا تھا۔مگر اب یہ تو امید نہیں کی جاسکتی کہ روز روز نظام حیدر آباد پیدا ہوں اور وقار الملک ان کے پھوپھا ہوں ، جنہیں چالیس، پچاس لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو۔پھر ان کی بیٹی بیوہ رہ جائے اور پھر نواب رضوی پیدا ہوں، جن سے اس کی لڑکی شادی کرلے اور اپنی جائیداد کا ایک حصہ انہیں دے دے۔اور وہ اس جائیداد کی آمد میں سے کچھ رقم ایک مبلغ کو دے دیں تا کہ وہ انگلستان جا کر تبلیغ کرے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے کہ کوئی لونڈی ایک دن او پہلے جمع کرنے کے لئے جنگل میں گئی۔جن کو پنجابی میں گو ہے" کہتے ہیں۔سردی کا موسم تھا، ایک خرگوش سردی کی شدت کی وجہ سے ٹھٹھر کر کسی جھاڑی کے قریب بے ہوش پڑا تھا۔وہ لونڈی او پلے جمع کرتی ہوئی وہاں پہنچی تو خرگوش دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اسے اٹھا کر گھر لے آئی۔گھر میں ہر فرد نے اس کی تعریف کی اور کہا تم بڑی ہوشیار ہو ، جو خر گوش اٹھا لائی ہو۔اس تعریف کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو گیا اور دوسرے دن صبح کو جب وہ پھر او پہلے جمع کرنے کے لئے جنگل میں جانے لگی تو کہنے لگی ، بی بی میں گوہیاں نوں جاواں یا سٹیاں نوں جاواں۔یعنی بی بی میں اوپلے اکٹھے کرنے جاؤں یا خرگوش اٹھانے کے لئے جاؤں۔گویا اسے امید پیدا ہوگئی کہ اب ہر روز اسے خرگوش مل جایا کریں گے۔یہی مثال ہماری ہوگی، اگر ہم یہ کہیں کہ چلو کوئی نواب رضوی تلاش کریں، جو کوئی مبلغ باہر بھیج دے۔نہ نظام حیدر آباد کی ریاست قائم کی جاسکتی ہے، نہ نظام کی بہن کو بیوہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس بیوہ کی 630