تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 787 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 787

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 ستمبر 1947ء سمجھ لو کہ آئندہ کے لئے تمہارا مال تمہارا نہیں بلکہ خدا کا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 1947ء " پس ہمیں اپنی پوزیشن اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے، روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی۔روحانی طور پر تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سے ہر شخص مسیح موعود علیہ السلام کے مقام پر کھڑا ہے یا نہیں؟ تم میں سے بعض لوگ ان مصائب کو دیکھ کر کتنا ڈر رہے ہیں؟ مگر کیا تم نے بھی سوچا کہ تمہارے یہ مصائب، ان مصائب کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ کے قیام کے وقت برداشت کئے تھے ؟ جس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تھا، اس دن جو کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کی ہوگی ، اگر وہی کیفیت ہم اپنے دل میں پیدا کر لیں اور ہم آپ کے بچے پیرو بن جائیں تو ہمارے دل کے حوصلے بلند ہونے چاہئیں اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جو کام ہمارے آقا نے کیا تھا، وہی کام کرنا ہمارا فرض ہے۔وہ اکیلے تھے مگر ہم اب بھی خدا تعالٰی کے فضل سے لاکھوں ہیں۔بے شک کچھ حصہ کی جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں۔یعنی ان لوگوں کی جائیدادیں، جو مشرقی پنجاب میں تھے۔مگر ہماری مغربی پنجاب کی جائیدادیں تباہ نہیں ہوئیں۔اگر قربانی کی ہم میں کچی روح ہے تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ آئندہ کے لئے تمہارا مال تمہارا نہیں بلکہ خدا کا ہے۔جو کچھ تم کماؤ گے، وہ سب کچھ خدا کا مال ہوگا۔تمہیں اس میں سے صرف روٹی ملے گی۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی نہ ملے یا جیسے میں نے کہا تھا تمہارا فرض ہے کہ تبلیغ کرو اور بھیک مانگ کر گزارہ کرو۔تم پندرہ پندرہ دن تبلیغ کے لئے وقف کرو اور اس رنگ میں وقف کرد کہ سلسلہ سے ایک پیسہ بھی نہ لو۔اگر خدا تعالیٰ کے لئے تمہیں کسی وقت بھیک مانگنی پڑے تو تم اس کے لئے تیار رہو۔اور تا خدانخواستہ اگر ہماری مغربی پنجاب کی جائیدادیں بھی کسی وقت ابتلا میں آجائیں تو ہم میں سے ہر شخص مبلغ ہو اور اسے عادت ہو کہ وہ بھیک مانگے اور تبلیغ کرے۔ہمارے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کا نمونہ موجود ہے۔اور انبیاء کے متعلق تو تم کہہ سکتے ہو کہ وہ پرانے انبیاء ہیں، ہم 873