تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 719 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 719

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 12 اپریل 1946ء بحیثیت جماعت اچھا ہو۔وہ جماعت اچھی کہلاسکتی ہے، جس کے امراء بھی بحیثیت جماعت اچھے ہوں۔شاذ و نادر کے طور پر اگر ان میں سے کوئی بگڑا ہوا ہو تو یہ اور بات ہے۔ورنہ صحیح معنوں میں جماعت وہی کہلا سکتی ہے، جس کے عام طور پر امراء بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر غرباء بھی اچھے ہوں۔جس کے عام طور پر علماء بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر جہلاء بھی اچھے ہوں۔جس کے عام طور پر مرد بھی اچھے ہوں اور جس کی عام طور پر عورتیں بھی اچھی ہوں۔جس کے عام طور پر بچے بھی اچھے ہوں اور جس کے عام طور پر بوڑھے بھی اچھے ہوں۔اگر کسی جماعت کا کسی ایک گروہ پر اثر پڑتا ہے، دوسروں پر نہیں تو وہ یقینا آسمانی جماعت نہیں کہلاسکتی۔اس لئے کہ وہ محدوداثر رکھنے والی ہوگی۔وہ قومی جماعت تو کہلا سکتی ہے مگر خدائی نہیں۔خدائی جماعت وہ ہوتی ہے، جو ہر گروہ کو مخاطب ہوتی ہے اور اپنے ہر مخالف کو اپیل کرتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء کی جماعت غربا کی جماعت ہوتی ہے۔مگر اس کے صرف یہ معنی ہوتے ہیں کہ انبیاء کی جماعتوں میں غرباء کثرت سے شامل ہوتے ہیں۔یہ معنی نہیں ہوتے کہ امراء ان میں شامل ہی نہیں ہوتے۔چنانچہ دیکھ لو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ایمان لائے ، وہ محض غربا میں سے نہیں آئے بلکہ امراء سے بھی آئے۔چنانچہ حضرت ابو بکر بھی آئے ، حضرت عثمان " بھی آئے اور دونوں مالدار تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓ بھی مالداروں میں سے تھے۔یہی حال حضرت طلحہ اور زبیر کا تھا کہ وہ بھی اچھے مالدار خاندانوں میں سے تھے۔اسی طرح غرباء بھی آئے ، عورتیں بھی آئیں، بچے بھی آئے ، بوڑھے بھی آئے، جوان بھی آئے۔غرض سب کے سب آئے۔جو ثبوت تھا، اس بات کا کہ یہ کوئی خاص قسم کی پولیٹیکل باڈی نہیں تھی۔اگر پولیٹیکل باڈی ہوتی تو انہی کی ہمدردی کھینچتی ، جن کو فائدہ پہنچانے کے لئے وہ کھڑی ہوئی تھی۔مگر چونکہ یہ مذہب تھا اور مذہب کا تعلق ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے، اس لئے اس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی۔امیر بھی شامل ہوتے ہیں اور غریب بھی۔عالم بھی شامل ہوتے ہیں اور جاہل بھی۔آزاد بھی شامل ہوتے ہیں اور غلام بھی۔کیونکہ مذہب کا تعلق نہ امیر سے ہوتا ہے نہ غریب سے۔نہ بوڑھے سے ہوتا ہے نہ جو ان سے نہ آزاد سے ہوتا ہے نہ غلام سے۔نہ عالم سے ہوتا ہے نہ جاہل سے۔بلکہ سب سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص خواہش رکھتا ہے کہ میں اس میں داخل ہو کر نجات حاصل کروں۔مگر جو قومی جماعت ہوتی ہے، وہ چونکہ مخصوص لوگوں سے تعلق رکھتی ہے، اس لئے سب لوگ اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔احمدیت بھی اس وقت اپنا رعب اور اثر پیدا کر سکتی ہے، جب اس کا ہر طبقہ اپنے ایمان اور اخلاص کا ثبوت دے۔بعض غریبوں کا اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کر دینا یا ان کا اپنی اولادوں کو 719