تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 11

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء والوں کو تو یہی نظر آ رہا ہے کہ پچھلے دو تین سالوں میں نے مشن نہیں کھولے گئے مگر حقیقت یہی ہے کہ تبلیغ کیلئے ایسے نوجوانوں کا تیار کیا جانا اشد ضروری ہے۔ابتدا میں ہم نے عارضی طور پر ایسے آدمی لگا لئے تھے جن کو دینی علوم کی واقفیت گہری نہ تھی۔اور اس میں شک نہیں کہ انہوں نے اپنے اخلاص کی وجہ سے اور سلسلہ کے اردوٹر بچر کی مدد سے جتنی تبلیغ وہ کر سکتے تھے، اتنی کی۔اور بعض جگہ اس کے عملی نتائج بھی ظاہر ہوئے مگر ان سے غلطیاں بھی ہوتی تھیں۔مجھے چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بتایا کہ ایک ایسے ہی مبلغ نے کسی مسئلہ میں قیاس کر کے جواب دے دیا جو در حقیقت غلط تھا۔ان لوگوں سے عارضی کام لیا گیا مگر مستقل طور پر ایسے لوگوں سے کام نہیں لیا جا سکتا تھا۔ورنہ مختلف مقامات پر ایسا دین پیدا ہو جاتا جو احمد بیت سے بالکل مختلف ہوتا۔ان لوگوں سے صرف آواز پہنچانے کا کام لے لیا گیا۔لیکن یہ ہمارا ضروری فرض ہے کہ ایسی جماعت تیار کریں جو دین سے واقف ہو اور باہر جا کر ایسی تعلیم پھیلائے جو احمدیت اور اسلام کی حقیقی تعلیم ہو۔اور ظاہر ہے کہ ایسی جماعت تیار کرنے کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔عام لوگ گھبراتے ہیں کہ کام نہیں ہورہا، بعض لوگ جلد بازی کے عادی ہوتے ہیں۔مگر انہیں یا درکھنا چاہئے کہ بعض کاموں میں جلد بازی انہیں رحمانی کی بجائے شیطانی بنادیا کرتی ہے۔اسی جنگ میں دیکھ لو انگلستان دو سال سے والعشیر تیار کر رہا تھا مگر اب تک وہ دو دو، چار چار ہزار کر کے ہی میدان میں بھیجے جاتے ہیں اور اچھے افسروں کی ٹریننگ کیلئے تین تین، چار چار بلکہ پانچ پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔پس اگر ہم بھی تین، چار یا پانچ سال لگا کر ایسے علماء کی ایک جماعت تیار کر سکیں جو تین ، چار یا پانچ سال میں عربی ، دینی اور انگریزی علوم سے واقفیت حاصل کر سکیں ، دین کے ماہر ہوں اور دین کی تفاصیل سے آگاہ ہوں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ میں چھپیں سال کیلئے جماعت کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور مبلغین کی ٹریننگ کے لئے ایک ایسی لائن تیار ہو سکے گی کہ جس پر چل کرنے مبلغ تیار کر نے آسان ہو جائیں گے۔دوسرا حصہ تحریک جدید کے چندوں کا جیسا کہ میں کئی بار بیان کر چکا ہوں۔مستقل جائیداد پیدا کرنے پر خرچ کیا گیا ہے۔ایسی زمینیں خریدی گئی ہیں جن کی قیمت قسط وار ادا کی جا رہی ہے اور قسط ہمیں قریبا ستر ہزار روپیہ سالانہ دینی پڑتی ہے۔ان جائیدادوں کے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ تحریک کے عارضی چندہ کو ہم مستقل نہیں کر سکتے اور مستقل طور پر ادا کیا جاسکتا ہے۔بے شک مستقل کر دینے کی صورت میں بھی بعض مخلصین اسے ادا کرتے رہیں گے لیکن ساری جماعت نہیں کر سکتی۔اگر ساری جماعت انہیں ادا کرے تو صدرانجمن احمدیہ کے چندوں 11