تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 223

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 دسمبر 1942ء نے کوئی احسان کیا ہے۔کیونکہ دینے والے سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ روپوں کو کھاتے میں درج کریں اور انہیں خدا کے حکم کے مطابق خرچ کریں، اجر تو خدا تعالیٰ ہی دینے والا ہے۔یہ دلوں کا تغیر ہی ہے، جس کے نتیجہ میں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے قربانیوں سے شاندار حصہ لے رہی ہے اور جب دلوں میں تغیر پیدا ہو جائے تو بڑی سے بڑی قربانی بھی حقیر معلوم ہونے لگتی ہے۔پس جو شخص اس غرض کے لئے دعائیں کرتا ہے، وہ تحریک جدید کے مقاصد کے پورا ہونے میں بہت بڑی امداد دیتا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ کثرت سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو قربانی کے معیار کے مطابق تحریک جدید میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔اگر خود ان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اس تحریک لے سکیں تو وہ دوسروں کے لئے دعائیں کر کے اس تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں۔ان کی دعاؤں سے دوستوں کو جتنی زیادہ مالی قربانی کرنے کی توفیق ملے گی، اسی قدر ان کو زیادہ ثواب ملے گا۔پس دعا ئیں کرو اور کرتے چلے جاؤ، یہاں تک کہ وعدوں کی آخری تاریخ آجائے اور خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کی قبولیت کا یہ نمونہ دکھائے کہ اس سال کے وعدے گزشتہ تمام سالوں سے زیادہ ہوں اور دوستوں نے اپنے وعدوں میں زیادہ سے زیادہ قربانی سے کام لیا ہو۔پھر وہ یہ بھی دعا کریں کہ جن لوگوں نے اس تحریک میں مالی حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو اپنے وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ خوشی سے اور سہولت سے اور ایمان کو بڑھاتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔پھر وہ اس بات کے لئے بھی دعائیں کریں کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں سے یہ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔خواہ میں ہوں یا میرے ماتحت اور لوگ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ صحیح مصرف پر روپیہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور سلسلہ کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہو ، تا کہ ہم اس امانت کو عمدگی سے ادا کرسکیں، جو خدا تعالیٰ نے اس جہت سے ہم پر عائد کی ہے۔یہ کام دعاؤں کے بغیر نہیں ہو سکتے۔پس دوستوں کو اس بارہ میں اہتمام سے دعائیں کرنی چاہئیں۔( مطبوعه الفضل 10 دسمبر 1942 ء ) 223