تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 177
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم وو اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود 24 جولائی 1942ء قربانیاں قوموں کا سانس ہوتی ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 1942ء پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس جنگ سے سبق حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔اس کا ہر پہلو برا ہے مگر برا بھی ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔پہلی لڑائی کے 25 سال بعد ہی جرمنی نے پھر لڑائی شروع کر دی اور یہ بہت بڑی بات ہے مگر اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہو سکتا ہے کہ دشمن کی شکست پر تسلی نہیں پانی چاہئے۔کیونکہ کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر بھی سر اٹھا سکتا ہے۔پھر لڑنے والی قوموں کے افراد قربانیاں کر رہے اور تکالیف اٹھا رہے ہیں۔ہمیں بھی اس سے یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ ہم بھی دین کیلئے قربانیاں کریں۔جرمن مائیں اپنے بچوں کو قربان کر رہی ہیں، جرمن تاجر اپنی تجارتوں کو تباہ کر رہے ہیں اور عوام طرح طرح کی تکالیف اٹھا رہے ہیں اور ہم اگر ان سے زیادہ قربانیاں کریں تبھی خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔اگر ان کے برابر ہی کریں تو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہوا ؟ اور اگر ان سے کم کریں تو نہایت ہی شرمناک بات ہو گی۔پس ہمیں ان سے بہت زیادہ قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ جماعت میں ایسے ہیں جو کسی تحریک پر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ چندے ہی مانگے جاتے ہیں۔کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ دس یا پندرہ سال تک چندہ دینے کے بعد پھر ان سے نہ مانگا جائے ، وہ اس کو بڑی قربانی سمجھتے ہیں کہ چند سال تک چندہ دے دیا ؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ دس یا پندرہ سال تو کیا ، اگر تم اس اصول پر قائم رہو تو پندرہ سو سال تک بھی چندے دینے پڑیں گے۔پندرہ سال کے بعد چندوں کا سلسلہ ختم سمجھنے کے یہ معنے ہیں کہ ایسا شخص زندگی کے پندرہ سال ہی سمجھتا ہے۔حالانکہ اگر احمدیت دس ہزار سال تک رہنی ہے تو ہر ایک دن قربانی کا مطالبہ ہوتا رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی صوفی کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ جو دم غافل سو دم کا فر“۔غفلت تو انسان کو کفر کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔پس یہ خیال کرنا کہ فلاں قربانی کے بعد اور قربانی نہ کرنی پڑے گی ، بالکل غلط ہے۔کیا معلوم کہ اگلا مطالبہ اس سے بھی سخت ہو، اگر آج رو پی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کل ممکن ہے جائیداد کا کرنا پڑے اور 177