تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 788
اقتباس از خطبه جمعه فرمود 26 ستمبر 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم نے اپنی آنکھوں سے ان کے نمونہ کو نہیں دیکھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات تو ہمارے سامنے گزرے ہیں۔اور اگر تم نے ان کو نہیں دیکھا تو کم سے کم دیکھنے والوں نے ان واقعات کو دیکھا اور وہ واقعات اتنے قریب ہیں کہ دشمن بھی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔پھر تمہارے لئے کون سی مشکل ہے؟ نمونہ تمہارے سامنے موجود ہے۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم اس نمونہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لو۔اگر تم حقیقی اور سچے احمدی بن جاؤ تو میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ بارہ مہینے ، انسان کے گنے ہوئے ٹھیک بارہ مہینے نہیں گزریں گے کہ تمہاری طاقت اور شوکت پہلے سے کئی گنا بڑھ جائے گی۔انسان کو اپنے اندر صرف ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔تم اپنے ایمانوں کا جائزہ لو سچائیوں پر قائم ہو جاؤ ، راستی اور صداقت کو اپنا شعار بناؤ، خدا کے ذکر میں مشغول رہو، اس کی معرفت اپنے اندر پیدا کرو۔تا کہ خدا تعالیٰ تم کو نظر آ جائے اور اسی دنیا میں وہ تم کو اپنا جلوہ دکھا دے۔جب تک خدانظر نہیں آتا، دنیا کی مصیبتیں پہاڑ اور اس کے ابتلا بے کنار اسمندر نظر آتے ہیں۔مگر جب خدا انظر آ جاتا ہے تو اس کی نگاہ میں یہ ساری چیزیں بیچ ہو جاتی ہیں۔تب ایک ہی چیز اس کے سامنے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا قول پورا ہو اور خدا تعالیٰ کے قول کے مقابلہ میں نہ حکومتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں ، نہ بادشاہتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں اور نہ جائیدادیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں، وہ ہنستا ہوا جاتا اور اپنی قربانی پیش کر کے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔" خلاصہ یہ کہ میں نے تم کو ہوشیار کیا اور بار بار کیا۔مگر تم کہتے رہے کہ یہ ایک شاعرانہ مبالغہ ہے، جو کیا جا رہا ہے۔حالانکہ مجھے خدا تعالیٰ نے سب کچھ بتا دیا تھا۔اور خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ کسی نبی کی جماعت ان قربانیوں کے بغیر ترقی نہیں کیا کرتی تم کو بھی خون سے غسل دے دیا گیا ہے اور یہی غسل ہوتا ہے، جو آخری غسل ہوتا ہے۔اگر اب بھی تم سنبھل جاؤ اور اپنے اندر اصلاح پیدا کر لوتو پھر خدا نئے سرے سے دنیا میں احمدیت کو مضبوطی سے قائم کر دے گا۔پس تم میں فوری طور پر ایک نئی تبدیلی پیدا ہونی چاہیے۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تم میں وہ تبدیلی پیدا نہیں ہوئی تم میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو باوجو دسب کچھ دیکھنے کے یوں سمجھتے ہیں کہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔اور گویا یہ ایک خواب تھا، جو انہوں نے دیکھا۔حالانکہ جو واقعات ظاہر ہوئے ہیں، وہ بتارہے ہیں کہ اب نہ تمہیں مال کی پروا ہونی چاہیے ، نہ جان کی پروا ہونی چاہیے، نہ کسی اور چیز کی پروا ہونی چاہیے۔مطبوع افضل 05 اکتوبر 1947ء) 874