تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 771 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 771

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم بچانے کے لئے، جو ضمیر کی لعنت و ملامت سے ہوتی ہے، یہ بہانہ تراش کر پیش کر دیتے ہیں کہ ہم چندے زیادہ دے رہے ہیں اور یہی دین کی خدمت ہے۔چونکہ اس قسم کے لوگ دوسرے آدمیوں میں اپنی عزت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جماعت کے صحیح اور کار آمد عضو ہیں، اسی لئے وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم زیادہ روپیہ کما کر زیادہ چندہ دیتے ہیں۔حالانکہ دین کی خدمت کے لئے صرف دفتر کا وقت ہی ضروری نہیں۔وہ دفتر کے اوقات میں بیشک دفتر کا کام کریں لیکن دفتر کے اوقات ہوتے کتنے ہیں؟ کیا چو میں گھنٹے ہی دفتر کا کام کرتے ہیں؟ دفتر کا وقت تو دس بجے سے چار بجے تک ہوتا ہے۔اور تو اور ڈاکٹروں، وکیلوں وغیرہ کی کمائی کا وقت بھی عام طور پر چھ سات گھنٹے ہی ہوتا ہے۔اس کے بعد لوگ گپیں مارتے ہیں اور سیر کے لئے نکلتے ہیں۔سرکاری دفاتر میں کام کرنے والوں کا وقت بھی جیسا کہ میں نے کہا ہے، عام طور پر دس بجے سے چار بجے تک ہوتا ہے۔چار بجے کے بعد لوگ اپنا فارغ وقت سیر و تفریح اور گیوں وغیرہ میں گزارتے ہیں۔اور سلسلہ بھی ان سے ایسے اوقات میں اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ وہ کمائی نہیں کر رہے ہوتے۔اسی طرح وکلا کا بھی کام کرنے کا وقت عام طور پر دس بجے سے تین ، چار بجے تک ہوتا ہے۔تین، چار بجے عدالتیں بند ہو جاتی ہیں اور وکلاء فارغ اوقات میں اپنے گھروں میں مقدموں کی تیاری کرتے ہیں اور کچھ وقت وہ بیوی بچوں میں بیٹھ کر گزارتے ہیں۔اسی طرح ان کے اوقات کا کچھ حصہ سیر و تفریح میں گزرتا ہے۔ایسے فارغ اوقات میں ان کو خدمت دین کے کام کرنے چاہیں۔اور اگر یہ سمجھا جائے کہ فارغ وقت صرف وہی ہے ، جس میں انسان کو کوئی کام نہ ہو۔باقی تمام اوقات مصروفیات کے ہیں۔اور اس مسئلہ کو لمبا کیا جائے تو پھر تو نمازوں کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ہندوستان کے ایک بڑے لیڈ ر جب بوڑھے ہوئے تو وہ نماز کے تارک ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں جو وقت نماز پڑھنے میں صرف کرتا ہوں ، کیوں نہ اس وقت میں کوئی قومی خدمت ہی سرانجام دیا کروں؟ مگر وہ تو پھر بھی اپنا وقت قومی خدمت میں صرف کرتے تھے۔لیکن دنیا میں اکثر آدمی ایسے ہیں، جو اپنے فارغ اوقات سیر و تفریح اور گپوں وغیرہ میں گزار دیتے ہیں۔لیکن جب دین کی خدمت کرنے کا سوال آجائے تو ان کا چوبیس گھنٹے کا دن صرف چھ گھنٹے کا دن بن جاتا ہے۔چوبیں گھنٹوں میں سے سات آٹھ گھنٹے کام کرنے کے ہوتے ہیں، باقی چودہ گھنٹے رہ گئے، کوئی شخص سولہ گھنٹے سوتا نہیں۔اور نہ ہی کوئی انسان سولہ گھنٹے نہاتا رہتا ہے اور نہ ہی کوئی انسان سولہ گھنٹے پاخانہ میں بیٹھا رہتا ہے۔ان سب کاموں کے لئے اگر آٹھ گھنٹے رکھ لئے جائیں تو پھر بھی آٹھ گھنٹے بچ جاتے ہیں، جن میں 854