تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 751 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 751

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 31 جنوری 1947 ء یہ امتحان کا وقت ہے، ہمارا ہر قدم آگے بڑھنا چاہئے خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جنوری 1947ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تحریک جدید کے اس حصہ کے مخاطبین کے متعلق جو پنجاب میں یا سرحد میں ، یو۔پی یا بہار میں رہتے ہیں، وعدوں کی آخری تاریخ 10 فروری ہے۔دس فروری کے لکھے ہوئے وعدے قبول کئے جائیں گے۔اس کے بعد وعدے قبول نہیں کئے جائیں گے۔اس کے بعد ان علاقوں کے دور اول میں حصہ لینے والوں کے وعدے نہیں لئے جائیں گے۔چونکہ دیہات میں ہفتہ میں ایک دو دفعہ ڈاک نکلتی ہے، اس لئے 10 فروری کے لکھے ہوئے وعدے پندرہ سولہ فروری تک پہنچتے رہتے ہیں۔اس کے بعد ان علاقوں کے لئے اس سال کے وعدوں کا دروازہ بند ہو جائے گا۔اس وقت وعدوں کی جو رفتار ہے، وہ ایسی نہیں کہ اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکے کہ اس سال احباب نے تندہی اور محنت سے کام کیا ہے۔جب میں نے شروع شروع میں نئے سال کا اعلان کیا تو پندرہ بیس دن تک تو بڑے جوش کے ساتھ وعدے موصول ہوتے رہے اور جہاں تک ان دوستوں سے ہوسکتا تھا، انہوں نے پچھلے سال کی نسبت اس سال کے وعدوں میں زیادتیاں بھی کی تھیں۔گواب بھی بعض دوست اپنے چندوں میں زیادتیاں کر رہے ہیں اور بعض تو غیر معمولی طور پر اپنے چندہ کو بڑھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جماعت نے تندہی اور محنت سے کام کیا ہے۔کیونکہ اب تو وعدوں کی فہرستیں بہت آہستہ آہستہ آرہی ہیں اور ان میں کوئی خاص نمایاں زیادتی نظر نہیں آتی۔میں نے جماعت کو بارہا اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری قربانیاں کسی ایک وقت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔اور جس قسم کی فوری قربانیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کو کرنی پڑی تھیں، اس قسم کی قربانیاں ہم کو نہیں کرنی پڑیں۔اور جس طرح رسول کریم صلی علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کو تھوڑ اعرصہ قربانیاں کرنے کے بعد غلبہ حاصل ہو گیا تھا، اسی طرح ہمارے لئے تھوڑا عرصہ مقدر نہیں۔صحابہ پر قربانیوں کا بے انتہا بوجھ یکدم ڈالا گیا اور ان کو تھوڑے سے عرصے میں بے انتہا کا میابیاں 833