تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 749
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1947ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم کہ ہمارا بو جھ دفتر اول والے یا دفتر سوم والے اٹھا ئیں گے۔بعض لوگ یہ حساب لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ انتشار یز روفنڈ ہے، اس سے کی پوری کی جا سکتی ہے۔اس قسم کے حساب لگانا ادنی درجے کے آدمیوں کا کام ہے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک شخص دوسرے آدمی سے یہ امید لگائے بیٹھار ہے کہ وہ میرا بوجھ اٹھائے گا۔تم صحابہ کو دیکھو، ان میں یہ احساس کس قدر موجزن تھا کہ ہر شخص کو اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہئے اور کسی کا سہارا نہیں ڈھونڈ نا چاہئے۔ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ میدان جنگ میں مین لڑائی کے وقت ان کا کوڑا گر گیا، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور فوج کولر وار ہے تھے۔ایک دوسرا سپاہی اس خیال سے کہ آپ کے کام میں حرج واقعہ نہ ہو کوڑا اٹھانے کے لئے جھکا۔کوڑے والے نے اسے آواز دے کر کہا کہ تجھے خدا کی قسم ہے، میرا کوڑا نہ اٹھانا۔میں خود اٹھاؤں گا۔پھر وہ گھوڑے سے اترے اور اتر کر کوڑا اٹھایا اور گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اس شخص کو جو کوڑا اٹھانے کے لئے جھکا تھا، کہنے لگے، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد کیا تھا کہ میں کسی سے سوال نہیں کروں گا۔یعنی گو میں نے آپ سے سوال نہیں کیا لیکن عملی رنگ میں یہ سوال ہی تھا اور میں نے یہ برداشت نہ کیا کہ میں نے جو عہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، وہ ٹوٹے۔میں اسے آخر دم تک نبھانا چاہتا ہوں۔یہ غیرت ہے ، جو انسان کو قربانیوں پر برانگیختہ کرتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا دار لوگ بھی اپنی روایتوں کو برقرار رکھنے کی انتہائی کوشش کرتے ہیں اور وہ کسی حالت میں بھی اپنے وقار پر حرف نہیں آنے دیتے اور کسی کا سہارا نہیں لیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ آپ کے دادا ایک دنیا دار آدمی تھے۔وہ اسی سال کی عمر میں پیچش کی مرض سے فوت ہوئے۔ان کو بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا تھا۔مرنے سے ایک دو گھنٹے پہلے جبکہ وہ بہت کمزور ہو چکے تھے، قضائے حاجت کے لئے اٹھے تو نوکر نے اس خیال سے کہ کمزوری بہت ہے، کہیں گر نہ جائیں، آپ کا بازو پکڑ لیا۔آپ نے اس کے ہاتھ کو پرے جھٹک کر کہا میں تمہارا سہارا نہیں لینا چاہتا۔یہ ایک دنیا دار شریف آدمی کی غیرت ہے۔مومن کامل کی غیرت اس سے بہت زیادہ ہونی چاہئے۔پس دفتر دوم والوں کو چاہئے کہ وہ بھی غیرت کا ثبوت دیں اور کہہ دیں کہ ہم کسی دوسرے کا سہارا نہیں لیں گے۔بلکہ ہم پر جو بوجھ پڑے گا، ہم اسے برداشت کریں گے۔اور دفتر اول والوں یا دفتر سوم والوں کے ریز روفنڈ سے اپنی ضروریات پوری نہیں کریں گے۔جیسا کہ میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں ، جب 830