تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 748 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 748

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1947ء رہے تھے اور یہاں آکر انہوں نے سوڈیڑھ سو روپیہ لے کر اسی پر قناعت کی۔اور بعض وکلا ہیں، جو کہ ہزار، بارہ سور و پیہ ماہوار کما سکتے تھے اور یہاں آکر ساٹھ ستر روپے پر گزارہ کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر رنگ میں ترقی ہو رہی ہے اور جماعت دن بدن اپنے اخلاص میں ترقی کر رہی ہے۔بعض دفعہ کسی خاص نقص یا خاص خرابی کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا پڑتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جماعت کا قدم نیچے کی طرف آرہا ہے۔بلکہ اس سے مراد صرف جماعت کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ورنہ میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح پروانے شمع کے گرد جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جلنے میں سبقت کرتے ہیں، اسی طرح سینکڑوں، ہزاروں لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیوانہ وارفنا ہونے کو تیار ہیں۔اور جب وہ مجھے ملنے کے لئے آتے ہیں، مجھے ان کی حالت کو دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے۔آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، جسم کانپ رہا ہوتا ہے اور پوچھتے ہیں، کس گناہ کی شامت میں ہمیں قبول نہیں کیا جارہا؟ حالانکہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر ملازم ہوتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں پاتے ہیں لیکن وہ اس دنیوی ترقی کو نہایت حقیر سمجھتے ہیں۔اور وہ جانتے ہیں کہ اصل عزت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔جس جماعت میں ایسے لوگ ہوں، اللہ تعالیٰ اس جماعت کا خود محافظ ہوتا ہے اور اس جماعت کو آپ ترقی دیتا ہے۔لیکن دوسرا طبقہ، جن کو زندگیاں وقف کرنے کی توفیق نہیں ملی، ان کو چاہئے کہ وہ مالی قربانیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اور مالی قربانیاں کر کے یہ ثابت کر دیں کہ ہم مردہ نہیں ہیں۔ہم میں بھی روحانیت ہے۔اور یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانی کریں۔دوسرے دفتر دوم والوں کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیں اور ایک دو سال کے اندر اندر اپنے وعدے چار لاکھ تک پہنچا دیں۔اور جب چھ سال دفتر اول والوں کے ختم ہوں تو وہ ان کے بوجھ کو بغیر کسی کی مدد کے اٹھا سکیں۔جہاں تک غیرت کا سوال ہے، دفتر دوم کے اخراجات کا بوجھ دفتر دوم والوں کو ہی اٹھانا چاہئے۔دفتر اول والوں نے اپنی قربانیوں سے اپنا بوجھ خود اٹھایا اور ساتھ کچھ ریز روفنڈ بھی قائم کیا۔کل کو یہ کتنی شرم کی بات ہوگی کہ دفتر دوم والے یہ کہیں کہ ہماری ضروریات بھی دفتر اول والوں کے ریز روفنڈ سے پوری کی جائیں۔کسی شاعر نے کیا عمدہ کہا ہے، حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائے مردی ہمسایہ در بہشت یعنی جنت میں دوسرے کی مدد سے جانا دوزخ میں جانے کے برابر ہے۔پس کوئی غیرت مند یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ کسی دوسرے کے سہارے پر زندہ رہے۔اس لئے دفتر دوم والوں کو یہ امید نہ رکھنی چاہئے 829