تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 747
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔اگر یہ نہیں تو پھر تحریک میں صرف چند روپے دے کر انسان اللہ تعالی کا مقرب نہیں بن سکتا۔بلکہ اس کا اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنا اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بناتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ دفتر دوم میں حصہ لینے والے بہت کم ہیں اور ان کے چندے کی وصولی کی رفتار اور بھی ست ہے۔میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہماری نسلیں ہم سے بڑھ کر قربانی کرنے والی ہوں اور ہمارا قدم کسی رنگ میں بھی پیچھے کی طرف نہ پڑے۔اور آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قدم ہر رنگ میں آگے کی طرف پڑ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جہاں ایسے مخلص لوگ تھے کہ وہ اپنی آمد میں سے نصف سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر قربان کر دیتے تھے، وہاں آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ نصف آمد یا نصف آمد سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیسہ فی روپیہ چندہ تھا، اس کے بعد دو پیسے فی روپیہ ہوا۔پھر تین پیسے فی روپیہ ہوا اور اب چار پیسے فی روپیہ ہے۔یہی شکل وصیت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بہت تھوڑے لوگ موصی تھے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں کی تعداد میں موصی ہیں اور چندہ تو آنہ کی بجائے پانچ پیسے فی روپیہ سمجھنا چاہئے۔کیونکہ چندہ جلسہ سالانہ بھی ایک مستقل چندہ ہے ، اس کو ملا کر پانچ پیسے فی روپیہ بن جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید جاری ہوگئی ہے اور جماعت یہ تمام قسم کے بوجھ اٹھاتی جارہی ہے اور اس کا قدم دن بدن ترقی کے طرف پڑ رہا ہے۔اگر انسان وفاداری کر سکتا ہے اور وفاداری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کیوں وفاداری نہ کرے گا ؟ بلکہ وہ تو تمام دنیا سے بڑھ کر وفادار ہے اور کوئی چیز اس کی طرح وفادار نہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے قربانیاں کریں گے، وہ قربانیاں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہوں گی اور اگلے جہان کا اندازہ نہ تم لگا سکتے ہو اور نہ میں لگا سکتا ہوں۔پھر وقف زندگی کا مطالبہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں با قاعدہ طور پر کوئی ایک مبلغ بھی نہ تھا اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر اڑھائی سو مبلغ کام کر رہے ہیں اور بہت سے جانے کے لئے تیار ہیں اور کچھ تیاری کر رہے ہیں۔اور کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اور اشارے کے منتظر ہیں۔وقف زندگی کرنے کے جذبہ کا احساس دوسری قومیں نہیں کر سکتیں کیونکہ ان میں یہ روح نہیں۔لیکن ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگ ایسے ہیں، جن کی مثال دوسری قوموں میں نہیں بل سکتی۔بعض آدمی ایسے ہیں، جو مستقل ملازمتیں چھوڑ کر آئے ہیں اور وہ ہزار، بارہ سو کے گریڈ میں کام کر 828