تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 738 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 738

تحریک ہو یہ ایک المی تحریک جلد دوم خلاصه از تقریر فرموده 13 جنوری 1947 ء اپنی زندگیاں راہ خدا میں وقف کریں تقریر فرمودہ 13 جنوری 1947ء مدرسہ احمدیہ کے صحن میں وکالت تبشیر کی طرف سے جناب مولوی نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ گولڈ کوسٹ افریقہ کے اعزاز میں دی گئی دعوت چائے کے موقع پر حضور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی ان علامتوں میں سے جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں، ایک علامت یہ بھی ہے کہ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ یعنی اس وقت وحشی غیر مہذب اور نا تعلیم یافتہ اقوام میں بھی بیداری پیدا ہو جائے گی۔دنیا میں ہمیشہ ہی ہر زمانہ اور ہر دور میں کوئی نہ کوئی قوم بیدار ہوتی رہی ہے اور پستی سے نکل کر بام رفعت پر پہنچتی رہی ہے۔مثلا مغل، عرب اور بربری اقوام ایک وقت ذلت کے عمیق گڑھے میں تھیں۔مگر ان پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ ساری دنیا پر چھا گئیں۔پہلے زمانہ میں تو میں انفرادی طور پر بیدار ہوتی رہی ہیں۔ایک وقت میں ایک عروج پر تھی تو دوسرے وقت میں دوسری بام رفعت پر۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی زمانہ میں ساری قومیں بیدار ہو گئی ہوں۔یہ نظاره که بیک وقت ساری قوموں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی ہو۔قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق صرف مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی دکھائی دیتا ہے۔اسی زمانہ میں دنیا کی ساری قومیں شاہراہ ترقی پر گامزن ہوئیں اور پست سے پست اقوام میں بھی بیداری کے آثار پیدا ہوئے۔سانسی، او باہی اور دیگر ا چھوت اقوام جن کو بھی سڑکوں پر چلنے کی اجازت بھی نہ ملتی تھی ، اب حکومت میں کانگرس اور مسلم لیگ کی ہم جلیس ہیں۔اور ہر قوم خواہ ہندو ہو یا مسلمان یا عیسائی ان کو اپنے میں شامل کرنے کے خواہش مند ہیں اور انہیں بھائی بنانے کے آرزومند ہیں۔ہندوستان سے باہر افریقہ کا ہی ایک ایسا ملک ہے، جو لاکھوں لاکھ سال سے تاریکی اور ظلمت کے عمیق گڑھے میں گرا ہوا تھا اور کبھی بھی اس میں بیداری پیدا نہ ہوئی تھی۔مگر اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے 819