تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 723

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم۔خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء یہ وہ نمونہ ہے، جو سب سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے مدینہ میں پیش کیا۔جبکہ سارے شہر کے انصار نے اپنے اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے آدھی آدھی جائیدادیں پیش کر دی تھیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یہ نمونہ دکھا سکتے ہیں تو کیا وہی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ " کا مثیل کہلانے والے احمدی اپنے نمونہ سے پیش نہیں کر سکتے ؟ اور کیا آج ہر بھائی اپنے دوسرے بھائی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھائی اگر تجھے دین کی خدمت کا شوق ہے تو بے شک خوشی سے جا اور یہ کام کر میں ہمیشہ اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ تجھے دیتا رہوں گا تا کہ قوم پر تو بوجھ نہ بنے اور اپنا کام عمدگی کے ساتھ کرتا رہے؟ میں سمجھتا ہوں ایک طرف ماں باپ کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اسلام کی خدمت کے لئے ادھر بھیجیں اور دوسری طرف خود بچوں کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہونی چاہیے کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اور اپنے ماں باپ کو مجبور کریں کہ وہ انہیں اس طرف بھیجیں۔یہ ایمان کا معاملہ ہے اور ایمان میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی نبوت فرمایا اور آپ نے تبلیغ شروع کی تو لوگوں نے ہچکچانا اور بھا گنا اور اعراض کرنا شروع کر دیا۔آپ نے سوچ و بچار اور غور وفکر کے بعد ایک دن لوگوں کی دعوت کی اور ارادہ فرمایا کہ جب یہ لوگ کھانا کھا چکیں گے تو میں انہیں اسلام کی تبلیغ کروں گا۔چنانچہ وہ لوگ آئے اور انہوں نے کھانا کھایا مگر جب کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ تقریر کرنے لگے تو لوگ اٹھ کر چلے گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی افسوس ہوا کہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے جوتد بیر اختیار کی گئی تھی، وہ کار گر ثابت نہ ہوئی۔حضرت علی کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے ان کو پہلے کھانا کھلا دیا اور تقریر بعد میں کی۔اگر آپ پہلے تقریر کرتے اور انہیں کھانا بعد میں کھلاتے تو وہ کھانے کے انتظار میں ضرور بیٹھے رہتے اور آپ کی باتیں بھی سن لیتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہے تو بچہ مگر اس کی بات معقول ہے۔چنانچہ آپ نے ان کی پھر دعوت کی۔جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے کھانا تقسیم کرنے سے پہلے ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔روٹی کی خاطر وہ مجبورا بیٹھے رہے اور انہیں آپ کی باتیں سننی پڑیں۔آپ نے بڑے زور سے تقریر کرنے کے بعد فرمایا دیکھو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان دروازہ کھولا گیا ہے۔اب تمہارے لئے موقع ہے کہ تم آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اعلیٰ مدارج حاصل کرو۔آج باقی ساری دنیا سے 723