تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 722 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 722

خطبہ جمعہ فرموده 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم جسمانی نہیں۔پھر جہاں جسمانی اور روحانی دونوں رشتے ہوں ، وہاں ایک دوسرے کے لئے کس قدر قربانی کرنی چاہئے؟ میں تو سمجھتا ہوں اگر کسی باپ کے دو بیٹے ہوں تو ان دونوں کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے باپ سے کہیں کہ اے ہمارے باپ آپ ہم میں سے جس کو چاہیں، دین کی طرف بھیج دیں اور جس کو چاہیں دنیا کمانے پر لگالیں۔ہم میں سے جو شخص دنیا کمائے گا، وہ اپنی کمائی کا آدھا حصہ ہمیشہ اس بھائی کو دے دیا کرے گا، جس نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوگا؟ تا کہ اگر وہ کسی اور طرح دین کی خدمت نہیں کر سکتا تو اسی رنگ میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرے۔اگر قربانی اور ایثار سے کام لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں، اس قسم کا عزم کر لینا کوئی مشکل بات نہیں اور اس کی مثالیں ہمیں اور قوموں میں بھی مل سکتی ہیں۔چنانچہ ہندوؤں میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے۔لالہ ہنس راج پرنسپل ڈی۔اے۔وی کالج لاہور، جن کا ہندوؤں کی تعلیم میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔وہ غریب ماں باپ کے بیٹے تھے۔ایسے غریب ماں باپ کے کہ ان کا تعلیم پانا بھی مشکل تھا۔ان کا ایک بھائی ڈاک خانہ میں ملازم تھا اور وہی ان کو تعلیمی اخراجات دیتا تھا۔چنانچہ اسی کی مدد سے انہوں نے کالج کی تعلیم حاصل کی۔اسی دوران میں پنڈت دیانند صاحب کی یادگار میں ڈی۔اے۔وی کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔چونکہ انہوں نے قومی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا تھا، ان کے بھائی نے کہا کہ میں ہمیشہ ان کو اپنی آدھی تنخواہ دیتا ہوں گا تا کہ یہ قوم پر بوجھ نہ بنیں۔چنانچہ لالہ ہنس راج صاحب ساری عمر ڈی۔اے۔وی کالج کے پرنسپل رہے اور انہوں نے اسے ادنیٰ حالت سے بہت بڑی ترقی تک پہنچا دیا۔مگر قوم سے وہ کوئی روپیہ نہیں لیتے تھے۔ہمیشہ ان کا بھائی اپنی تنخواہ میں سے نصف رو پیدان کو بھجوا دیا کرتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں اس کی تنخواہ زیادہ ہوگئی تھی۔مگر بہر حال ایک ڈاکخانہ کے ملازم کی تنخواہ چار، پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔اس تنخواہ کا آدھا حصہ وہ برابر ان کو دیتارہا اور اسی پر ان کا گزارہ رہا۔یہ درست ہے کہ ہندوؤں کے پاس روپیہ حاصل کرنے کے اور بھی ذرائع ہوتے ہیں۔چونکہ ہند و مالدار قوم ہے، اس لئے اگر کسی کے پاس تھوڑ اسا روپیہ بھی ہو تو قومی احساس رکھنے والے بینکروں کو وہ روپیہ دے کر ہزاروں روپے کی جائیدادیں پیدا کر لیتے ہیں۔مسلمان ایسا نہیں کر سکتے۔لیکن بہر حال ہندوؤں میں سے ایک شخص نے یہ مثال پیش کر دی کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کو ، جس نے قوم کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا ، ساری عمر اپنی آدھی تنخواہ دیتا رہا۔722