تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 721
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء اس کے لئے وقف رہے گی۔اگر آپ اس طرح جائیداد کو وقف کریں گے تو اس کا فائدہ صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ آپ کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔اب دیکھو یہ کیسا اچھا طریق ہے، جو اس دوست نے اختیار کیا۔اور اگر ایک شخص ایسا کر سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسا نہ کریں۔میں نے دیکھا ہے، حضرت خلیفہ اول بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ اگر کسی کے دو بیٹے ہوں اور ان میں سے ایک دنیا کمائے تو وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ اپنے اس دوسرے بھائی کو نہ دے، جس نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی بڑی کثرت سے مثالیں ملتی ہیں۔یہاں تک کہ سب انصار نے یک دم اپنی ساری جائیداد میں مہاجرین کو پیش کر دیں اور انہیں اپنے ساتھ شریک کرلیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے انصار سے فرمایا کہ اے انصار! مہاجرین یہاں اجنبی ہیں، باہر سے آئے ہوئے ہیں اور یہاں ان کے کوئی رشتہ دار نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمہیں آپس میں بھائی بھائی بنادوں۔چنانچہ آپ نے ایک ایک انصاری کو لیا اور اسے ایک ایک مہاجر کے ساتھ وابستہ کر دیا اور کہا کہ لواب تم بھائی بھائی بن گئے ہو۔انہوں نے بھی اس اخوت کو اتنی اہمیت دی کہ بعض نے اصرار کرنا شروع کر دیا کہ آؤ ہم اپنی جائیدادیں آپس میں تقسیم کر لیں۔کیونکہ جب ہم آپس میں بھائی بھائی بن چکے ہیں تو اب ان جائیدادوں میں صرف ہمارا ہی حصہ نہیں بلکہ تمہارا حصہ بھی ہے۔ایک شخص نے تو حد کر دی۔وہ اپنے مہاجر بھائی کو گھر لے گیا اور کہا میری دو بیویاں ہیں اور تم ابھی کنوارے ہو۔(اس وقت تک پردہ کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔( ان دونوں میں سے جو بھی تمہیں پسند ہو، میں اس کو طلاق دینے کے لئے تیار ہوں، تم اس سے شادی کر لو۔یہ الگ بات ہے کہ اس شخص کا یہ جوش انتہائی حد تک پہنچا ہوا تھا۔نہ مہاجر نے ایسا کیا، نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کے لیے اسے کہا۔مگر یہ بات ان کے اخلاص پر دلالت کرتی ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ وہ کس طرح آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے۔اور پھر کس طرح انہوں نے اپنی جائیدادوں میں دوسروں کو شریک بنالیا۔اگر بغیر کسی جسمانی رشتے کے انصار اپنے مہاجر بھائیوں کو آدھا آدھا مال دینے کے لئے تیار تھے تو کیا ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے بیٹے ایسا نہیں کر سکتے کہ ان میں سے جو شخص دنیا کمارہا ہو، وہ اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے اس بھائی کو دے دیا کرے، جس نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے؟ وہاں تو صرف ایک ہی رشتہ تھا یعنی انصار اور مہاجرین کے درمیان صرف روحانی رشتہ تھا، 721