تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 720 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 720

خطبہ جمعہ فرموده 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کر دینا، یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ احمدیت نے ہر طبقہ پر اپنا اثر ڈال لیا ہے۔لازماً اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہماری جماعت کے امراء احمد یہ نظام کی خوبی کے پوری طرح قائل نہیں۔وہ اپنے پرانے نظام کے ہی دلداد ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پلاؤ کھاتے بیٹے ہمیشہ پلاؤ ہی کھاتے رہیں اور ان کے مخمل پہننے والے بچے ہمیشہ مخمل ہی پہنتے رہیں۔چونکہ وہ احمد یہ نظام کو اس کے خلاف پاتے ہیں، اس لئے وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔پس آج میں ایک دفعہ پھر جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے، اگر احمدیت کی اتباع فائدہ بخش ہے اور اگر احمدیت کی اتباع انسان کو دین اور دنیا میں سرخرو کرنے والی ہے تو امراء اور درمیانی طبقہ کے لوگ مجھے بتائیں کہ وہ اپنے بچوں کو اس عظیم الشان خدمت سے محروم کر کے ان کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں یا دوستی ؟ اور کیا وہ اپنے بچوں کو اس طرف نہ بھیج کر اپنے ساتھ اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ محبت کر رہے ہیں یا ان پر خطر ناک ظلم کر رہے ہیں؟ اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے اور اگر احمدیت کی اشاعت کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو وقف کرنا خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے تو یقینا قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے حضور وہ لوگ سرخرو ہوں گے، جنہوں نے اپنے بچے خدمت دین کے لیے پیش کئے ہوں گے اور یقینا وہ بچے بھی سرخرو ہوں گے ، جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے وقف کی ہوں گی۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ ، جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کرنے میں کوتاہی سے کام لیا ہوگا ، وہ خدا تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہوں گے۔اسی طرح وہ لوگ بھی شرمندہ ہوں گے، جنہوں نے نہ خود دین سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لیے وقف کیا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر امراء اس طرف توجہ کریں تو انہیں بہت کچھ سہولت بھی ہے۔وہ اپنی جائیداد کا کچھ حصہ ایسی اولاد کے لئے وقف کر سکتے ہیں۔کلکتہ کے ایک احمدی دوست ہیں، جنہوں نے مجھے سے ذکر کیا کہ میرا ایک بچہ جس کو میں نے خدمت دین کے لئے پیش کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کے لئے اپنی پچھتر ہزار کی ایک جائیداد وقف کر دوں تا کہ اس کی آمد اس کے کام آتی رہے۔میں نے کہا یہ بہت عمدہ بات ہے، آپ ایسا ضرور کریں۔لیکن میرے نزدیک زیادہ بہتر یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ یوں کریں کہ اپنی اس جائیداد کو ایک بچہ کے لئے وقف کر دیں، آپ اس جائیداد کو اس رنگ میں وقف کریں کہ آئندہ میری اولاد میں سے جو بھی اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرے گا، اس جائیداد کی آمد 720