تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 717
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 12 اپریل 1946ء پاس کسی کام کے سلسلہ میں جاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ مزدور احمدی ہو یا احمدیت سے متاثر ہو۔اگر ایک سقہ اس کے مکان پر پانی ڈالنے کے لئے آتا ہے یا یہ کہ اس کے مکان پر یہ کہنے کے لئے جاتا ہے کہ میرے گھر میں پانی ڈال دیا کرو تو وہ یا تو احمدی ہو یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہو۔اسی طرح ایک نائی اس کے پاس حجامت بنانے کے لئے آتا ہے یا یہ اس کے پاس حجامت بنوانے کے لئے جاتا ہے۔یا ایک درزی اس کے پاس کپڑوں کی سلائی لینے کے لئے آتا ہے یا یہ اس درزی کے پاس کپڑوں کو سلانے کے لئے جاتا ہے۔یا ایک دھوبی اس کے لئے کپڑے دینے کے لئے آتا ہے یا یہ دھوبی کے پاس کپڑے دینے کے لئے جاتا ہے۔تو ضروری ہے کہ وہ نائی اور وہ درزی اور وہ دھوبی یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہوں۔یا مثلاً ایک لوہار کسی کام کے لئے اس کے پاس آتا ہے یا یہ اس لوہار کے پاس جاتا ہے۔یا ایک ترکھان اس کے مکان کی مرمت کے لئے آتا ہے یا یہ اس ترکھان کے مکان پر جاتا ہے۔تو ضروری ہے کہ وہ لوہار اور ترکھان یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جب تک ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی احمدی نہیں بنا لیتے ، جب تک ہمارے دائیں اور ہمارے بائیں کام کرنے والے احمدی نہیں بن جاتے یا احمدیت کی آواز سے مرعوب نہیں ہو جاتے ، اس وقت تک لازماً کان میں دو قسم کی آواز میں پڑتی رہیں گی۔اور دو قسم کی آوازیں ہمیشہ انسان کو یا تو گمراہ کر دیتی ہیں اور یا اس میں ہسٹریا کا مرض پیدا کر دیا کرتی ہیں۔پرانے زمانہ میں لوگ کہا کرتے تھے کہ دو کشتیوں میں قدم رکھنے والا سلامت نہیں رہ سکتا۔یہ بھی صحیح ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ صحیح وہ حقیقت ہے، جو موجودہ زمانہ میں علم النفس کے ماہرین نے ثابت کی ہے۔اور وہ حقیقت یہ ہے کہ دو قسم کی آوازوں کا کان میں پڑنا، دوکشتیوں میں قدم رکھنے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔کشتیاں ادھر ادھر ہوں تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ انسان کی ٹانگیں چر جائیں۔لیکن جس شخص کے کان میں ہمیشہ دوستم کی آوازیں آتی رہیں گی ، وہ یقینا پاگل ہو جائے گا اور کسی شخص کا مرجانا، اس سے ہزار درجہ بہتر ہوتا ہے کہ وہ پاگل ہو کر زندہ رہے۔پس جب تک ہم اپنے ماحول کو درست نہیں کر لیتے، اس وقت تک ہماری اولادیں شیطانی حملوں سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ہم خود انہیں دھکے دے کر شیطان کی گود میں ڈالنے والے ہوں گے۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری جماعت میں اس کا احساس پیدا ہو اور جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ، وہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔اس وقت تک امراء اس تحریک میں حصہ لینے سے بہت حد تک محروم چلے آرہے ہیں اور انہوں نے بہت ہی کم بچے دین کی خدمت کے لیے 717