تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 712 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 712

خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہوسکتی، جس کے تمام افراد لمی لحاظ سے ایک ہی سطح پر ہوں۔ضرور ان میں سے کچھ زیادہ علم رکھنے والے ہوتے ہیں اور کچھ کم علم رکھنے والے ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں حضرت ابوبکر بھی تھے، حضرت علی " بھی تھے، حضرت عمر جیسے انسان بھی تھے۔مگر ساتھ ہی بعض اس قسم کے بھی صحابہ تھے، جو مسائل اسلامیہ کو کما حقہ سمجھنے کی استعداد اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔چند موٹے موٹے مسائل سمجھ لیتے اور اسی پر وہ اکتفا کرتے تھے ، جیسے حضرت بلال تھے۔یا فقہی مسائل کو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے تھے، گو ظاہری علم ان کا زیادہ تھا جیسے حضرت ابو ہریرہ تھے۔بہر حال کسی جماعت میں بھی سارے افراد یکساں طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتے۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد یعنی خدا تعالیٰ نے انسان کی پانچ انگلیوں کو بھی برابر نہیں بنایا۔ان میں بھی کوئی چھوٹی ہے اور کوئی بڑی۔مگر جہاں یہ حقیقت ہے کہ کسی جماعت کے تمام افراد علمی لحاظ سے ایک ہی سطح پر نہیں ہوتے ، وہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ نہ کچھ سطح کا برابر ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی پانچوں انگلیوں کو برابر نہیں بنایا۔لیکن اگر ایک انگلی بغل کے پاس ہوتی اور ایک انگلی ہاتھ کے سرے پر، تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اس فلسفہ کے ماتحت کہ خدا نے پانچ انگلیوں کو برابر نہیں بنایا، بغل والی انگلی ہتھیلی کے ساتھ والی انگلی سے مل کر کوئی کام کر سکتی؟ یقینا وہ کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔کیونکہ پہلی صورت میں انگلیوں میں فرق تو ہے مگر زیادہ فرق نہیں اور دوسری صورت میں دونوں انگلیوں کے درمیان اتنا بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی آپس میں مل کر کام نہیں کر سکتیں۔پس دو چیزوں میں فرق تو بے شک ہوتا ہے مگر وہ فرق ایسا ہی ہونا چاہیے کہ بڑی چیز اپنے آپ کو نیچا کر سکے اور نیچے والی چیز اپنے آپ کو اونچا کر سکے۔چنانچہ دیکھ لو خدا تعالیٰ نے پانچوں انگلیاں بے شک برابر نہیں بنائیں مگر لقمہ اٹھاتے اور منہ میں ڈالتے وقت وہ پانچوں انگلیاں برابر ہو جاتی ہیں۔بڑی انگلی نیچے جھک جاتی ہے اور چھوٹی انگلی اونچا ہونے کی کوشش کرتی ہے۔اور اس طرح ساری انگلیاں باوجود آپس میں فرق رکھنے کے برابر ہو جاتی ہیں۔اسی طرح جماعتوں کے افراد میں اگر باہمی فرق اتنا زیادہ ہو کہ وہ آپس میں مل ہی نہ سکیں۔ایک زمین کی کہتا ہو اور دوسرا آسمان کی۔تو ایسی جماعت کبھی عمدگی سے کام نہیں کر سکتی۔ہاں اگر فرق تو ہو لیکن وقت آنے پر اوپر کے درجہ والا نیچے جھک جائے اور چھوٹے درجے والا اوپر اٹھنے کی کوشش پراٹھنے 712