تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 711 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 711

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء قیامت کو سرخرو و ہی ہوں گے جو اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو وقف کریں گے خطبہ جمعہ فرمود و 12 اپریل 1946ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قادیان کے اور باہر کے سکولوں کے امتحانات یا تو ہو چکے ہیں یا عنقریب ختم ہونے والے ہیں۔ہم نے یہ قانون پاس کیا ہوا ہے کہ مدرسہ احمدیہ میں مڈل پاس لڑکے لیے جائیں اور چار سال میں وہ مدرسہ احمدیہ کا ابتدائی کورس پاس کر کے پھر جامعہ احمدیہ میں داخل ہوں۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہماری جماعت جس حد تک پہنچ چکی ہے ، وہ ایک ایسا مقام ہے، جس میں در حقیقت ہمیں ہندوستان اور اس سے باہر تبلیغ کرنے کے لیے ایک سو مبلغ سالانہ کی ضرورت ہے۔ایک سو مبلغ سالانہ کے معنی یہ ہیں کہ اگر آج سے ایک سو مبلغ ہمیں حاصل ہوں تو دس سال کے بعد ایک ہزار مبلغ ہم کو میسر آ سکتے ہیں۔حالانکہ دنیا کی آبادی اور اس کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تعداد کچھ بھی چیز نہیں۔در حقیقت دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ کرنے کے لیے ہمیں اس سے بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔مگر کم سے کم ہمارا پہلا قدم اتنا تو ہونا چاہئے کہ ہم ہندوستان اور اس سے باہر تبلیغ کے لیے ایک ہزار مبلغین کا اندازہ رکھیں۔اس وقت ہمارے ہندوستانی اور غیر ہندوستانی مبلغ ، جہاں تک میں سمجھتا ہوں 60,70 کے قریب تو افریقہ میں ہیں اور 25 کے قریب افریقہ کے علاوہ دوسرے ممالک میں ہیں۔غیر ممالک میں جو مقامی مبلغ مقرر کر لیے جاتے ہیں، ان کی تعداد کا سوائے افریقہ کے کوئی صحیح اندازہ نہیں۔بہر حال یہ 85 کے قریب مبلغ تو باہر کے ہو گئے۔ستر ، اسی کے قریب ہندوستان میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور پچاس کے قریب دیہاتی مبلغ تیار ہو رہے ہیں۔ان سب کو اگر شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد دوسو کے قریب بن جاتی ہے۔مگر ان دوسو مبلغین میں سے بھی اعلی تعلیم یافتہ مبلغ بہت کم ہیں۔وہ مولوی فاضل یا گریجوایٹ ، جن کو ہم نے با قاعدہ تعلیم دلوائی ہے، اگر ان سب کا اندازہ کیا جائے تو وہ ساٹھ ستر سے زیادہ نہیں نکلیں گے۔باقی سب ایسے ہی ہیں، جنہیں وقتی ضرورت کے ماتحت تبلیغ کے کام پر لگایا گیا ہے۔جہاں تک تبلیغ کے کام کا سوال ہے، وہ اس کام کو بخوبی کر سکتے ہیں۔مگر جہاں تک سلسلہ کے مسائل کو کما حقہ سمجھنے کا سوال ہے ، وہ خود بھی ان مسائل کو کما حقہ نہیں سمجھ سکتے، کجا یہ کہ دوسروں کو سمجھانے کی قابلیت اپنے اندر رکھتے ہوں۔711