تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 709
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم 66 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مارچ 1946ء اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کے لئے قربانی کرنے والوں کی یاد گار کو تازہ رکھنے کے لئے میں نے سلسلہ کی جائداد کے مختلف گاؤں کے نام بزرگوں کے ناموں پر رکھنا تجویز کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہیں، اس لئے آپ کے نام پر اس گاؤں کا نام جو تحریک کی جائیداد کا مرکز ہے، محمد آباؤ رکھا گیا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کی جائیداد کے مرکز کا نام احمد آباد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر رکھا گیا ہے۔محمد آباد آٹھ ہزا را یکٹر کا رقبہ ہے۔اس لحاظ سے میرا خیال ہے، اس میں چھ سات گاؤں اور آباد ہو سکتے ہیں۔اگر بارہ سو ایکڑ کا ایک گاؤں بنایا جائے تو سات گاؤں اس رقبہ میں آباد ہو سکتے ہیں۔اس وقت جو آبادیاں یہاں قائم ہو چکی ہیں، ان میں سے ایک کا نام پہلے سے حضرت خلیفہ اول کے نام پر نو رنگ ہے۔اب شمالی حلقہ کی ایک آبادی، جو شیشن کے پاس ہے، اس کا نام کریم نگر رکھا گیا ہے۔اور مغربی طرف کی دو آبادیوں میں سے ایک کا نام لطیف نگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی یاد میں اور ایک کا نام روشن نگر حافظ روشن علی صاحب کی یادگار میں رکھا گیا ہے۔پہلے میں نے ان ناموں کے ساتھ آباد لگایا تھا مگر پھر اسے نگر میں تبدیل کر دیا تا کہ محمد آباد نام کے لحاظ سے بھی اپنے حلقہ میں ممتاز ہو۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ہیں اور یہ لوگ ستارے ہیں ، اسی طرح محمد آباد بطور سورج کے ہو اور اس کے ارد گرد باقی گاؤں بطور ستاروں کے ہوں۔میرا ارادہ بعض اور نام بھی رکھنے کا ہے۔مثلاً ” برہان نگر مولوی برہان الدین صاحب کے نام پر اور اسحاق نگر میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے نام پر۔اسی طرح ایک دو گاؤں احمد آباد کی زمین میں بھی آباد ہو سکتے ہیں۔ان کے ساتھ بھی نگر لگایا جائے گا اور جو گاؤں احمد آباد میں آباد ہوں گے، ان کے نام بھی سلسلہ کے لئے قربانی کرنے والوں کے نام پر رکھے جائیں گے۔ان گاؤں کے نام بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہوں گے۔کیونکہ ایک وہ دن تھا کہ قادیان میں اگر تین، چار سو روپیہ چندہ آجا تا تھا تو بڑی ترقی سمجھی جاتی تھی اور آج یہ دن آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سلسلہ کو لاکھوں لاکھ کی جائیدادیں دی ہیں اور قربانی کرنے والوں کے نام پر گاؤں آباد ہو رہے ہیں۔اسی طرح میرا خیال ہے کہ ایک گاؤں کا نام "تحریک نگر“ رکھا جائے، جو تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کی یاد گار ہو۔پس اگر کسی دوست کو اضلاع حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر، دادو، کراچی یا میر پور خاص میں کسی اچھی زمین کا علم ہو تو وہ ہمیں فوراً اطلاع دے۔خواہ وہ قیمتا ملتی ہو یا مقاطعہ پر ملتی ہو۔اگر ہمارے قریب ہو تو تھوڑی زمین بھی خریدی جاسکتی ہے۔لیکن اگر دور ہو تو پندرہ سو یا دو ہزارا یکٹر سے کم نہ ہو۔کیونکہ اس سے تھوڑی زمین کا انتظام بہت مہنگا پڑتا ہے۔لیکن اگر ہماری اسٹیوں کے قریب تھوڑی زمین بھی ہو تو وہ خریدی جاسکتی ہے۔اور پھر تبادلوں کے ذریعہ اسے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔وو 709