تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 702

خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مارچ 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کی آمد 30 کروڑ روپیہ سالانہ ہونی چاہئے۔لیکن ہندوستان میں پچھلے پچاس سال میں کسی ایک سال میں بھی ایک کروڑ مسلمانوں نے جمع نہیں کیا ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ اخلاص نہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو عطا کیا ہے۔اگر ان کے اندر بھی وہی اخلاص پیدا ہو جائے تو ان کا چندہ یقینا گورنمنٹ آف انڈیا کے بجٹ سے بڑھ جائے۔گورنمنٹ آف انڈیا کی آمد ایک ارب روپیہ سالانہ ہے۔مسلمانوں کی تعدادس کروڑ ہے۔اور اگر پانچ روپے سالانہ چندہ فی آدمی رکھ لیا جائے تو پچاس کروڑ روپیہ بن جاتا ہے۔لیکن چونکہ ان میں کئی آدمی بڑے بڑے مالدار بھی ہیں، اس لئے بغیر تکلیف کے ایک ارب روپیہ سالانہ جمع کر سکتے ہیں۔اور ایک ارب روپیہ سالانہ گورنمنٹ آف انڈیا کی آمد ہے۔گورنمنٹ ٹیکسوں کے ذریعہ حکومت کے دباؤ سے یہ روپیہ وصول کرتی ہے لیکن ہمارے سب چندے طوعی ہوتے ہیں۔نہ ہمیں جبر کرنے کی طاقت ہے، نہ ہم نے جبر کرنا ہے۔روپیہ دو ہی طرح جمع ہو سکتا ہے یا تو حکومت کے دباؤ سے یا پھر لوگوں کا ایمان اتنا اعلیٰ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر چیز قربان کرنا اپنی سعادت سمجھیں۔پس احمدیوں کا دوسروں سے چندوں سے بڑھ جانے کی وجہ یہی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے حلاوت ایمان بخشی ہے۔ہمارا ایک احمدی، جو بھوکوں مر رہا ہو، وہ اپنے ایمان کی وجہ سے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر رو پید، دور و پیہ ماہوار چندہ دے دیتا ہے۔لیکن ایک غیر احمدی کے لئے ، جو مالی لحاظ سے بہت اچھا ہو، روپیہ، دور و پیہ ماہوار دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔اگر ان میں سے کوئی شخص قومی کام کے لئے ایک سو روپیہ دے دے تو اخباروں میں شور مچ جاتا ہے کہ فلاں رئیس نے ایک سو روپیہ قومی کام کے لئے دیا ہے۔حالانکہ جو شخص 100 مربعے کا مالک ہے، اس کے لئے 100 روپیہ دینا کون سی قربانی ہے؟ ہمارے ہاں ایک غریب آدمی بھی کئی سور و پیر چندہ دے دیتا ہے، جو اس کی حیثیت سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے لیکن اس کا نام کسی اخبار میں نہیں چھپتا اور اگر وہ دے کر اس روپے کا دوبارہ نام بھی لے تو ساری جماعت بر امناتی ہے کہ تم نے خدا تعالی کو دیا ہے، کسی پر احسان نہیں کیا۔لیکن باوجود اتنی قربانیوں کے ہمارے ذمہ، جو کام ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے مقابل میں ہمارے سامان بہت تھوڑے ہیں اور وہ کام صرف اس روپے سے نہیں چل سکتا۔اس سال تحریک جدید دفتر دوم میں ستر ہزار کے وعدے آئے ہیں۔اور دفتر اول میں دولاکھ پنتالیس ہزار کے وعدے آئے ہیں۔اور دونوں دفتروں کے وعدے تین لاکھ پندرہ ہزار بنتے ہیں اور ابھی ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے وعدے باقی ہیں۔اگر وہ شامل کر لیے جائیں تو یہ پونے چار لاکھ کے وعدے ہو جائیں گے۔لیکن کیا تحریک جدید اس روپے سے تمام غیر ممالک میں تبلیغی مراکز قائم کرانے میں 702