تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 693
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 22 فروری 1946ء پاسپورٹ کے لیے درخواست دیں یا نہ دیں؟ گویا انہوں نے ایک سال درخواست دینے کے لیے غور کرنے پر لگا دیا۔جس کی وجہ سے ان دونوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکے۔اور چونکہ مبلغ کی حیثیت میں پاسپورٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے اب وہاں ہمیں کسی اور ذریعہ سے جانا ہوگا۔اور چونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے، اس لیے خدا تعالیٰ ہمیں کوئی نہ کوئی تدبیر ضرور سمجھا دے گا یا کسی نہ کسی رنگ میں ان کے افسروں کی عقلوں پر پتھر ڈال دے گا۔جس کی وجہ سے ہمارے آدمی با وجود مخالفت کے ان ملکوں میں گھس ہی جائیں گے۔پس ایک وسیع کام ہمارے سامنے ہے۔اس لیے ہمیں اب ہر قدم آگے کی طرف ہی بڑھانا چاہئے اور تحریک جدید کا دور اول ہمیں شاندار طور پر ختم کرنا چاہئے۔اس سال کو ملا کر آٹھ سال باقی رہ جاتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ اس عرصہ میں ہم دور دوم کو اتنا مکمل کر لیں کہ اس کی آمد دور اول سے بڑھ جائے۔ابھی تو دور دوم کے وعدے بہت کم ہیں۔پچھلے سال 55 یا 60 ہزار کے وعدے ہوئے تھے، جن میں سے صرف 43 ہزار وصول ہوا۔ضرورت یہ ہے کہ اس دور کو ہم پہلے سے بھی زیادہ شاندار بنانے کی کوشش کریں۔اس دفعہ دفتر چونکہ کوشش کر رہا ہے، اس لئے امید ہے کہ پچھلے سال سے وعدے زیادہ ہوں گے۔اس کے بعد تحریک جدید کے دور سوم اور دور چہارم اور دور پنجم آئیں گے اور ہم دین کے لیے قربانیاں کرتے چلے جائیں گے۔جس دن ہم نے دین کے لیے جدو جہد چھوڑ دی اور جس دن ہم میں وہ لوگ پیدا ہو گئے ، جنہوں نے کہا کہ دور اول بھی گزر گیا، دور دوم بھی گزر گیا، دور سوم بھی گزر گیا ، دور چہارم بھی گزر گیا، دور پنجم بھی گزر گیا، دور ششم بھی گزر گیا، دور هفتم بھی گزر گیا، اب ہم کب تک اس قسم کی قربانیاں کرتے چلے جائیں گے؟ آخر کہیں نہ کہیں اس کو ختم بھی تو کرنا چاہئے۔وہ اقرار ہوگا، ان لوگوں کا کہ اب ہماری روحانیت سرد ہو چکی ہے اور ہمارے ایمان کمزور ہو گئے ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے یہ دور غیر محدود ہوں گے اور جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے ، اسی طرح تحریک جدید کے دور بھی گنے نہیں جائیں گے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ تیری نسل گئی نہیں جائے گی اور حضرت ابرا ہیم کی نسل نے دین کا بہت کام کیا۔یہی حال تحریک جدید کا ہے۔تحریک جدید کا دور چونکہ آدمیوں کا نہیں بلکہ دین کے لئے قربانی کرنے کے سامانوں کا مجموعہ ہے۔اس لیے اس کے دور بھی اگر نہ گنے جائیں تو یہ ایک عظیم الشان بنیا د اسلام اور احمدیت کی مضبوطی کی ہوگی۔(مطبوعہ الفضل یکم مارچ 1946ء ) ) 693