تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 689
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 فروری 1946ء دین اسلام کے لیے وقف کر دی ہیں اور باپوں نے اپنی نسلیں خدا تعالیٰ کے لیے دے دی ہیں اور جتنی اسلام کے لیے قربانی کی ذمہ داری تھی ، وہ بعضوں نے پوری کر دی اور بعض پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے جھک کر کہیں کہ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی عمر کی کمائی تیرے دین کے لیے دے دی ہے، اب تو خود ہی ان کی حفاظت کر اور ان کو بامراد واپس لا کہ ہمارے دل بھی خوش ہوں اور تیرے دین کو بھی ترقی ہو۔یہی وہ ذمہ داری ہے، جو ہم پر عائد ہے۔اسی طرح جس طرح خنساء پرتھی۔بلکہ دین کا رشتہ دنیا کے رشتہ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔اگر خنساء اپنے جسمانی بچوں کی بقاء اور ان کی حفاظت کے لیے اس قدر بیتاب ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھک گئی تھی تو پھر ہمارا تو یہ فرض اولین ہے کہ ہمارے دلوں میں ایک جوش پیدا ہو اور ہم ان نوجوانوں کے لیے، جو دین کے لیے باہر چلے گئے ہیں یا باہر جانے والے ہیں، خدا تعالیٰ کے حضور التجا کریں کہ اے ہمارے رب! تو ان کو صحیح راستہ دکھلا ، ان کے کاموں میں برکت دے، ان کو کامیابی عطا فرما اور ان کو فاتح بنا کر واپس لا۔اگر خدا تعالی کی طرف سے مدد نہ آئی تو ہمارے کام کی مثال ایسی ہی ہوگی ، جیسے کوئی صبح سارا دن مزدوری کرے اور شام کو اپنی مزدوری دریا میں ڈال دے۔اگر ہم اخلاص کے ساتھ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ایسی کیفیت پیدا کر دے گا کہ ہمارے دل بولنے لگ جائیں گے اور رات اور دن وہی خیالات ہمارے دلوں میں جاری رہیں گے۔ہم دنیا کے کام کر رہے ہوں گے اور دعا میں ہمارے دلوں سے نکلتی چلی جائیں گی۔ایک بڑھئی اپنی لکڑی چیر رہا ہو گا اور ساتھ ہی اس کے دل سے آواز نکل رہی ہوگی ، کلہاڑی کھٹ کھٹ کر رہی ہوگی اور ساتھ ہی اس کے دل کی آہٹ خدا تعالیٰ کے سامنے پکار پکار کر یہ کہ رہی ہوگی کہ اے خدا! ہمارے مبلغین کو آرام سے رکھیو اور ان کی مدد اور نصرت فرمائیو۔اور جب ایک طبقہ کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ ان کے دل بولنے لگ جائیں گے ، جیسے صوفیاء کہا کرتے تھے کہ فلاں کا دل بولنے لگ گیا ہے تو ہماری کامیابی یقینی ہے۔بعض لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دل باتیں کرنے لگ جاتا اور کلمہ پڑھنے لگ جاتا ہے۔حالانکہ دل بولنے کے یہ معنی نہیں ہوتے۔بلکہ دل بولنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ دل میں سے دعا ئیں خود بخود پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور ارادے کا سوال ہی نہیں رہتا۔رات اور دن دل میں ایک فکر پیدا ہو جاتا ہے اور رات اور دن دل دعا میں لگا رہتا ہے۔جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ بندے کے قریب ہو جاتا ہے اور اسی کا نام صوفیا نے دل کا بولنا رکھا ہے۔نادانوں نے دل بولنے کے معنی یہ سمجھ لئے ہیں کہ زبان سے جس طرح آدمی کلام کرتا ہے، اسی طرح دل بھی بولنے لگ جاتا ہے۔مگر یہ معنی نہیں۔689