تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 688 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 688

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 15 فروری 1946ء تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔۔جلد دوم جائیں لیکن اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو اس خواہش کو ہدایت پا جائیں“ کی بجائے ہدایت پاگئے کی صورت میں بدل سکتا ہے۔اگر ہماری یہ خواہش اخلاص پر مبنی ہے اور ہمارا اسلام کی ترقی کے لیے مبلغین کو باہر بھیجنا، تقومی پرچنی ہے۔تو اس صورت میں خدا تعالیٰ جس بات کا پہلے سے ارادہ کر چکا ہے، اس کا ظہور میں آجانا کوئی مشکل امر نہیں۔پس دوستوں کو ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہیں اور اپنی ذات کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔ہم نے اپنے نو جوانوں کو اگر وہ ہم میں سے کسی کے بیٹے نہیں تو بہر حال وہ کسی ماں اور کسی باپ کے بیٹے ہیں، دنیا میں بھیجا ہے تن تنہا، بغیر سامانوں کے، بغیر ہتھیاروں کے، بغیر تجربہ کے اور بغیر ان علوم کے، جن کو پیش کئے بغیر یورپین لوگ بات ہی نہیں مانتے۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی مثال دی ہے ، ہم نے ان کو ایسی صورت میں بھیجا ہے، جیسے کاغذ کی ناؤ کو دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور گر جائیں اور اس کی مدد مانگیں۔میں نے ایک گزشتہ جمعہ خطبہ میں خنساء کا ایک قصہ سنایا تھا۔اس وقت جو حصہ سنایا تھا، وہ اس مضمون کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہ جب ایک جنگ میں مسلمانوں کے لئے ایک خطرناک صورت پیدا ہوگئی تو خنساء نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا میں نے تمہیں بیوگی کی حالت میں بڑی بڑی مصیبتوں میں رہ کر پالا اور تمہاری پرورش کی۔میں اپنا دودھ قیامت کے دن تک معاف نہیں کروں گی ، جب تک تم فتح پا کر نہ لوٹو گے یا مارے نہ جاؤ گے۔لیکن دوسرا حصہ وہ ہے، جو آج کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔خنساء نے اپنے بیٹوں کو بھی تو دیا لیکن انہیں بھیج کر وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوگئی۔اس نے بیٹوں کو موت کے لئے بھیجا اور اس پر جوذ مہ داری تھی، اسے ادا کر دیا۔اس کے بعد جو دوسری ذمہ داری تھی ، یعنی مامتا کی ، اس نے اسے ادا کیا۔وہ ان کو موت کے منہ میں بھیج کر خود خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئی۔اور کہا اے میرے اللہ ! میں نے اپنی جوانی دکھ میں گزاری کیونکہ میرا خاوند بد معاش آدمی تھا۔پھر میں نے اپنا بڑھا پادکھ میں گزارا کیونکہ تین بچوں کی پرورش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔اب اے میرے رب ! جب مجھے آرام ملنے کا موقع تھا، میں نے اپنے تینوں بچوں کو جو میری ساری عمر کی کمائی ہیں، تیرے دین کی خدمت کے لئے بھیج دیا ہے کہ جاؤ یا تو فتح پا کر واپس آنا یاد ہیں مر جانا۔لیکن اے میرے رب ! اب میری مامتا تیرے عرش کے آگے اپیل کرتی ہے کہ ان کو زندہ ہی واپس لانا۔چنانچہ وہ زندہ ہی واپس آئے اور فتح پا کر آئے۔اب بھی جبکہ بعض ماؤں نے اپنے بچوں کو گھر سے نکال کر باہر پھینک دیا ہے۔جب نو جوانوں نے اپنی زندگیاں 688