تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 683
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 فروری 1946ء اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے اپنے آپ کو اس کے فضلوں کے مستحق بنا ئیں خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1946ء تحریک جدید کے ذریعہ ہم نے دنیا بھر کی تبلیغ کے لئے ایک نقشہ بنایا ہے۔بیسیوں نوجوان اسی غرض کے لئے تیار کئے ہیں کہ وہ بیرونی ممالک میں جائیں اور ایسے رنگ میں تبلیغ کریں کہ اشاعت اسلام بھی ہو، ان کے گزارے کی صورت بھی نکل آئے اور علمی طور پر بھی ان ممالک پر احمدیت کا رعب چھا جائے۔لیکن ہمارا یہ دور اب تک صرف تمہیدی دور گزرا ہے۔جماعت نے چندے دیئے، نو جوانوں نے زندگیاں وقف کیں، پڑھنے والوں نے پڑھا، لٹریچر لکھنے والوں نے لٹریچر تیار کیا اور بعض نوجوانوں کو غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ کیا گیا۔لیکن اس کے بعد ابھی یہ مرحلہ باقی ہے کہ باہر جانے والے ایسے طور پر کام کرنے میں کامیاب ثابت ہوں کہ ان کے ذریعہ غیر ممالک میں ایسی آواز پیدا ہو جائے کہ لوگوں کے قلوب ہل جائیں اور ان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ وہ اپنے ہا گزاروں کے لئے ایسے راستے نکال سکیں کہ جن سے تبلیغ کو وسیع سے وسیع تر کیا جا سکے۔میں نے جو قدم اٹھایا ہے، وہ دنیا کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔دنیا میں دوارب کے قریب آدمی ہے۔اگر ایک ہزار آدمیوں کے لئے ایک مبلغ رکھا جائے تو یہ سمجھ لو کہ دولاکھ مبلغین کی ہمیں ضرورت ہے۔لیکن ہم نے اس وقت تک جو مبلغین بھیجے ہیں ، اگر ان میں پرانوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو چالیس کے قریب تعداد بنتی ہے۔جہاں دولاکھ کی ضرورت ہو ، وہاں چالیس مبلغ بھلا کیا کام دے سکتے ہیں۔ہمارے ملک کے زمیندار کی اوسط خوراک پانچ چھٹانک سمجھی جاتی ہے۔پانچ چھٹانک کے معنی ہوئے 25 تولے، رتیوں کے لحاظ سے تقریباً چو میں سورتی بنی اور چاولوں کے لحاظ سے یہ قریباً 19 ہزار چاول بنے۔شہری لوگوں کی خوراک تو کم ہوتی ہے۔یہاں تک کہ بعض لوگ ایک یا ڈیڑھ چھٹانک پر ہی گزارہ کر لیتے ہیں۔لیکن ایک محنت کش مزدور کی عام خوراک 19 ہزار چاول ہوتی ہے۔اب 33 مبلغین کو دولاکھ کے مقابل میں رکھ کر دیکھ لو کہ کیا نسبت بنتی ہے؟ اگر ہزار مبلغ ہوں تو دو سواں حصہ ہوگا۔اگر سو مبلغ ہوں تو دو ہزارواں حصہ ہوگا اور اگر 33 مبلغ ہوں تو وہ دولاکھ کا چھ ہزارواں حصہ بنیں گے۔دوسرے لفظوں میں ایک عام آدمی کی خوراک کے 683