تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 672
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اس جنگ میں لڑائی کے سدھائے ہوئے ہاتھی مقابلہ پر لے آئے تھے۔جب کوئی گھوڑایا اونٹ ہاتھیوں کے سامنے آتا تھا تو بھاگ جاتا تھا۔ایک مسلمان جرنیل آیا اور اس نے ان تینوں میں سے دو بھائیوں کو کہا کہ تم میرے ساتھ مل کر چلو۔ہم سامنے سے ہاتھیوں پر حملہ کر دیں۔گوموت یقینی ہے لیکن امید ہے کہ اس طرح باقی مسلمان بچ جائیں گے۔انہوں نے کہا، ہمیں منظور ہے۔ہاتھی پر سامنے سے حملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ جولڑائی کے لئے سدھائے ہوئے ہاتھی ہوتے ہیں، وہ آدمی کو سونڈ میں لپیٹ کر زمین سے اٹھا کر دے مارتے ہیں۔انہوں نے جاتے ہی سردار لشکر کے ہاتھی پر حملہ کر دیا۔دونوں بھائیوں میں سے ایک ہاتھی کے دائیں طرف ہو گیا اور دوسرا بائیں طرف اور وہ جرنیل خود سامنے کھڑا ہو گیا۔جب سامنے سے جرنیل حملہ کرتا تو ہاتھی دائیں بائیں منہ پھیر تا۔جب ہاتھی دائیں طرف منہ کرتا تو دائیں طرف والا اس کی سونڈ پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا۔ہاتھی اسے اپنی سونڈ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا۔پھر جب ہاتھی بائیں طرف منہ کرتا تو دوسرا بھائی اس کی سونڈ پر تلوار مارنے کی کوشش کرتا۔ہاتھی اسے بھی اپنی سونڈ سے اٹھا کر زمین پر دے مارتا لیکن وہ دونوں بھائی اس کے پہلوؤوں سے نہ ہے۔حتی کہ انہوں نے اسے بری طرح زخمی کر دیا۔آخر ہاتھی گھبرا کر پیچھے بھاگا۔اس ہاتھی کا بھا گنا تھا کہ دوسرے اس کے ساتھ کے ہاتھی بھی بھاگ نکلے۔اور ہاتھیوں کے بھاگنے سے دوسرے لشکر میں کھلبلی مچ گئی اور سارا ایرانی لشکر بھاگ نکلا۔اور اسلامی لشکر نے فتح پائی۔پس یہ بھی عورتیں تھیں، جنہوں نے اپنے بچوں کا میدان جنگ میں شہید ہونا پسند کیا اور نا کامی کی صورت میں ان کا منہ دیکھنا پسند نہ کیا۔اور آج وہ عورتیں ہیں کہ بچوں کو زندگی قربان کرنے کی تعلیم دینا تو الگ رہا۔انہیں زندگی وقف کرنے سے روکتی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ عورتوں میں جذباتی رنگ بہت غالب ہوتا ہے۔اگر ان کے جذبات سے اپیل کی جائے تو وہ نیکی میں کہیں کی کہیں نکل جاتی ہیں۔ایک جنگ میں حضرت سعد کمانڈر تھے۔ان کو ایک نو مسلم سپاہی کے متعلق شکایت پہنچی کہ اس نے شراب پی ہے۔حضرت سعد نے اسے قید کر دیا۔حضرت سعدؓ کے سرین میں گھنیر تھا، اس لئے سواری پر نہ بیٹھ سکتے تھے۔آخر عرشہ بنوایا گیا اور عرشے پر نیم دراز ہو کر حضرت سعد احکام جاری فرماتے رہے۔جہاں حضرت سعد کا خیمہ تھا ، اس کے پاس ہی وہ سپاہی قید تھا۔جس وقت لڑائی کے نعرے بلند ہوتے یا لڑائی کے میدان سے کوئی افسوسناک آواز آتی تو یہ نو مسلم غصے کی وجہ سے زنجیر کو کھینچتا اور کہتا اے کاش! میں آج جنگ میں شریک ہوتا۔کوئی مسلمان ایسا ہے، جو مجھے آزاد کر دے۔گو میں گنہ گار تو ہوں لیکن اسلام کا درد میرے 672