تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 651

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 23 نومبر 1945ء ہوتا ہے۔قاسم کے معنی تقسیم کرنے والے کے ہیں اور علی کے معنی بڑی شان والے کے۔پھر میر قاسم علی صاحب سید بھی تھے۔پس وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف رجوع کریں گے اور ان کے رجوع کرنے کے سامان خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز زیادہ سے زیادہ پیدا ہور ہے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کہاں کہاں پہلے احمدیت کے پھیلنے کے رستے کھلیں گے؟ ابھی افریقہ سے ایک علاقہ کے مبلغوں کی اطلاع آئی ہے کہ اگر ہمیں بارہ مبلغ مل جائیں تو ہم دس سال کے اندر اس سارے علاقے کو احمدی بنا سکتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی ترقی کے رستے کھل رہے ہیں۔صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے قدم کو تیز تر کر دیں اور ہر قسم کی قربانیوں میں خوشی سے حصہ لیں۔پس میں آج تحریک جدید کے بارھویں سال کا اعلان کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے استمد ادکرتے اور اس کے حضور دعا کرتے ہوئے ، جماعت کے مخلصین سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے ، بارھویں سال میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدے لکھوائیں۔اور جنہوں نے پہلے حصہ نہیں لیا، وہ دفتر دوم میں حصہ لیں اور انیس سال تک قربانی جاری رکھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے دوست صحیح طور پر قربانی کریں تو دفتر دوم میں تین چار لاکھ تک وعدوں کا پہنچ جانا کوئی مشکل امر نہیں۔صرف دوستوں کی توجہ اور ہمت کی ضرورت ہے۔پس میں اللہ تعالیٰ پر تو کل کرتے ہوئے تحریک جدید کے بارھویں سال کا اعلان کرتا ہوں اور دوستوں سے کہتا ہوں کہ آگے بڑھو اور احمد بیت اور اسلام کے لئے اپنے مالوں کو قربان کرو۔تا کہ جب ہماری موت کا وقت آئے تو ہم خوش ہوں کہ جس کام کو ہم نے شروع کیا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کے رحم سے اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين (مطبوعہ افضل 17 دسمبر 1945ء) 651