تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 635

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود ه 02 نومبر 1945ء اس وقت تک جتنی تقریریں ہوتی ہیں ، سب بے نظام ہوتی ہیں۔آئندہ ہمیں چاہیے کہ کچھ ایسے آدمی تیار کریں، جو عربی دان ہوں اور کچھ ایسے آدمی تیار کریں، جو انگریزی دان ہوں۔ہم خود انہیں لیکچرز لکھوائیں۔جس کے بعد وہ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں دورہ کریں اور وہی لیکچر لوگوں کے سامنے بیان کریں۔یہ لیکچر اسلامی مضامین کے متعلق بھی ہوں، عام علمی مضامین کے متعلق بھی اور ہندؤں، سکھوں اور مسیحیوں وغیرہ کے متعلق بھی۔اسی طرح بعض مبلغ ہندوؤں سکھوں کے متعلق تیار کئے جائیں، جوان کے مضامین سے واقف ہوں۔پچھلے دنوں مبلغین کا ایک دورہ ہوا اور وہ بڑے خوش خوش واپس آئے کہ بڑی کامیابی ہوئی ہے۔اور کامیابی سے مراد ان کی یہ تھی کہ ہم نے اس موضوع پر خوب تقاریر کیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں مل کر رہنا چاہئے اور لوگوں نے خوب تعریف کی۔حالانکہ یہ کامیابی تو خواجہ کمال الدین صاحب والی کامیابی ہے۔مضمون تو وہ ہونا چاہیے، جن سے ان پر اختلافی مسائل کی حقیقت واضح ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے مضامین نہ ہوں ، وہ بھی ہوں۔لیکن ہمارا جو اصل میدان ہے، اول توجہ ادھر ہونی چاہئے۔پس میں میں تجویز کرتا ہوں کہ لیکچروں کے نوٹ ان کو یہاں لکھوائے جائیں اور انہیں لیکچروں کو وہ سارے ہندوستان میں مختلف مقامات پر بیان کرتے پھریں۔بے شک اس طرح جو لیکچر امرتسر میں دیا جائے گا ، وہی لاہور میں دیا جائے گا اور وہی جالندھر وغیرہ میں دیا جائے گا۔مگر اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ جو امرتسر والوں نے سنا، وہ لاہور والوں کے لئے پرانا نہیں۔ان کے لئے وہ نیا ہی ہوگا۔اسی طرح لاہور والے جو سن چکے ہوں گے، جالندھر اور راولپنڈی کے لئے وہ مضمون پرانا نہیں ہوا۔اس جگہ کے لئے وہ مضمون نیا ہوگا۔خواجہ کمال الدین صاحب کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی کتب کا مطالعہ کر کے ایک لیکچر تیار کرتے تھے۔پھر قادیان آ کر کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھتے اور کچھ دوسرے لوگوں سے اور اس طرح ایک لیکچر مکمل کر لیتے۔پھر اسے لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے اور خوب کامیاب ہوتے۔وہ کہا کرتے تھے کہ اگر بارہ لیکچر آدمی کے پاس تیار ہو جائیں تو اس کی غیر معمولی شہرت ہوسکتی ہے۔انہوں نے ابھی سات لیکچر تیار کئے تھے کہ ولایت چلے گئے۔لیکن وہ ان سات لیکچروں سے ہی بہت مقبول ہو چکے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک لیکچر بھی اچھی طرح تیار کر لیا جائے تو چونکہ وہ خوب یاد ہوتا ہے، اس لئے لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہو سکتا ہے۔پہلے زمانہ میں اسی طرح ہوتا تھا کہ صرف میر کا الگ استاد ہوتا تھا۔نحومیر کا الگ استاد ہوتا تھا۔کچی روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا۔635