تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 633
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم۔خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء ضروری ہے کہ ہماری مختلف صوبوں کی جماعتیں اپنے اپنے علاقہ سے کچھ لوگوں کو منتخب کریں ، جو اپنی زندگیاں اس غرض کے لئے وقف کریں۔کچھ تامل جاننے والے ہوں، کچھ گجراتی جاننے والے، کچھ مرہٹی جاننے والے، کچھ کٹڑی جانے والے، کچھ اڑ یہ جاننے والے، کچھ لنگی جاننے والے۔اور ضروری نہیں کہ یہ سب لوگ عالم ہوں۔کام شروع کرنے کے لئے جو سامان بھی میسر ہو، اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایسے آدمیوں سے کام لیا جا سکتا ہے، جو تھوڑا بہت اپنی زبان کا علم رکھتے ہوں۔جیسا کہ ہم نے دیہاتی مبلغین کی سکیم بتائی ہے۔اسی طرح ان لوگوں کو جو معمولی نوشت خواندہ ہیں، تیار کیا جاسکتا ہے۔پہلا قدم ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔شروع میں عالموں کامل جانا بڑا مشکل کام ہے۔پس اگر معمولی لکھے پڑھے مل جائیں تو بھی کام چل سکتا ہے۔لیکن اگر لکھے پڑھے بھی نہ ملیں تو ان پڑھوں کو بھی زبانی باتیں سکھائی جاسکتی ہیں۔بنگہ کے ایک دوست میاں شیر محمد صاحب، وہ ان پڑھ آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔وہ فنافی الدین قسم کے لوگوں میں سے تھے۔ا کہ چلاتے تھے۔غالباً پھلور سے سواریاں لے کر بنگہ جاتے تھے۔ان کا طریق تھا کہ سواری کوا کہ میں بٹھاتے اورا کہ چلاتے جاتے اور سواریوں سے گفتگو شروع کر دیتے۔اخبار الحکم لگواتے تھے۔جیب سے اخبار نکال لیتے سواریوں سے پوچھتے آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے۔اگر کوئی پڑھا ہوا ہوتا ، اسے کہتے کہ یہ اخبار میرے نام آئی ہے، ذرا اس کو سنا تو دیجیے۔اکہ میں بیٹھا ہوا آدمی جھٹکے کھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کوئی شغل مل جائے ، وہ خوشی سے پڑھ کر سنانا شروع کر دیتا ہے۔وہ اخبار پڑھنا شروع کرتا تو وہ جرح شروع کر دیتے کہ یہ کیا لکھا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس طرح جرح کرتے کہ اس کے ذہن کو سوچ کر جواب دینا پڑتا اور بات اچھی طرح اس کے ذہن نشین ہو جاتی۔جب انہوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا تھا تو اس وقت ان کے ذریعہ سے درجن سے زیادہ احمدی ہو چکے تھے۔اس کے بعد بھی وہ کئی سال زندہ رہے ہیں، نہ معلوم کتنے آدمی ان کے ذریعہ اور اسی طریق پر احمدیت میں داخل ہوئے۔غرض ضروری نہیں کہ ہمیں کام شروع کرنے کے لئے بڑے بڑے عالم آدمیوں کی ضرورت ہو۔بلکہ ایسے علاقوں میں جہاں کوئی پڑھا ہوا آدمی نہیں مل سکتا ، اگر ان پڑھ احمدی مل جائے تو ان پڑھ ہی ہمارے پاس بھجوا دیا جائے۔اس کو زبانی مسائل سمجھائے جاسکتے ہیں تا کام شروع ہو جائے۔اگر ہم اس انتظار میں رہے کہ عالم آدمی ملیں تو نہ معلوم ان کے آنے تک کتنا زمانہ گزر جائے گا؟ کیونکہ علماء کو مذہب کی باریکیوں میں جانا پڑتا ہے، اس لئے ان کو علم حاصل کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ مذہب میں باریکیاں ہوتی ہیں، جن 633