تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 629
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم - خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء مختلف علاقوں میں تبلیغ اور وقف تجارت سے متعلق چند باتیں خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”ہمارا ملک ایک براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔جس میں 40 کروڑ کے قریب آدمی بستے ہیں اور آٹھ دس ایسی زبانیں بولی جاتیں ہیں ، جو کروڑوں آدمیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔مثلاً پنجابی ، اردو، انگریزی، ہندی، بنگالی، تامل، مرہٹی، گجراتی۔یہ آٹھ زبانیں ہیں۔پہلے بر ماہندوستان میں شامل تھا لیکن اب اسے الگ کر دیا گیا ہے۔اگر برمی زبان کو بھی شامل کر لیا جائے تو نو زبانیں ایسی ہیں جو کروڑوں لوگوں میں بولی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ ایسی زبانیں، جو پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ ستر ستر ، اسی اسی لاکھ تک کی تعد ادرکھنے والے آدمیوں میں بولی جاتی ہیں، ان کے علاوہ ہیں۔مثلاً سرحد میں پشتو ، سندھ میں سندھی، اڑیسہ اڑیہ، اسی طرح تلنگو وغیرہ زبانیں، جو مدراس ، حیدر آباد اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہیں، ایسی ہیں جو چالیس، پچاس لاکھ سے لے کر ستر ، اسی لاکھ تک کی تعدا در کھنے والے لوگوں میں بولی جاتی ہیں۔اور دنیا کی کئی آزاد حکومتیں ایسی ہیں، جن کی آبادی اتنی ہی ہے۔پس ہمارا ملک ایک براعظم ہے اور جہاں باقی دنیا میں تبلیغ کرنا ہمارے ذمہ ہے، وہاں ہندوستان میں تبلیغ کے سلسلہ کو وسیع کرنا بھی ہمارے اہم فرائض میں شامل ہے۔اردو زبان میں ہم ایک محدود دائرہ میں تبلیغ کر سکتے ہیں۔انگریزی زبان میں بھی صرف تعلیم یافتہ طبقہ میں ، جو کروڑ ، دو کروڑ ہے، ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس طرح بنگالی ، ہندی ، مرہٹی، گجراتی اور تامل وغیرہ زبانوں میں سے کسی زبان میں بھی ہم سارے ہندوستان کو خطاب نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ زبانیں ایک ایک یادو د وصوبوں میں بولی جاتی ہیں۔یا پھر ان زبانوں کے ذریعہ چند ریاستوں میں ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔ورنہ ان میں سے کوئی ایک زبان بھی ایسی نہیں جو تبلیغ کے لحاظ سے سارے ہندوستان میں کام آسکے۔یوں اردو زبان قریباً ہر جگہ اس حد تک سمجھی جاتی ہے کہ انسان اس کے ذریعہ سے گزارہ کر سکتا ہے۔مثلاً کسی نے تھوڑا بہت سودا خریدنا ہو یا راستہ ا پوچھنا ہو تو ایسے کاموں میں وہ ہر جگہ کام آسکتی ہے۔اسی طرح ایسے کاموں میں انگریزی زبان بھی تھوڑی 629