تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 619
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء غرض مادی طاقت ایک ایسی چیز ہے، جو بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک علم کا سوال ہے، ہزار ہا ہندوستانی علم میں یورپین لوگوں سے زیادہ ہیں۔جہاں تک صنعت و حرفت کا تعلق ہے، ہندوستانی ان سے پیچھے نہیں۔جہاں تک تجارت کا تعلق ہے، ان سے پیچھے نہیں۔مگر چونکہ ابھی مادی غلبہ ہندوستانیوں کو حاصل نہیں ہوا، اس لئے غیر مہذب کہلاتے ہیں۔پس مادیت ایک ایسی چیز ہے، جس کے ذریعہ وہ لوگ بھی حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں، جو اس کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔لیکن اگر مادی بیداری کی ابتداء ہی نہیں ہوئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا کی آنکھیں کھولنا کتنا مشکل کام ہے؟ یہ امر یا در رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے وہ نشان لوگوں کی ہدایت کا زیادہ موجب ہوتا ہے، جو مادی غلبہ بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مگر مادی غلبہ کے مختلف زمانے ہوتے ہیں۔جو موسوی سلسلہ کے بروز ہوتے ہیں، ان کو مادی غلبہ جلد حاصل ہو جاتا ہے۔کیونکہ انہوں نے شریعت کو قائم کرنا ہوتا ہے۔مگر مسیحی سلسلہ کے بروزوں کا غلبہ آہستہ آہستہ محنتوں ، کوششوں اور تدابیر سے ہوتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام گھر سے نکلے اور اپنی زندگی میں ہی ( گو اصل اور آخری نتیجہ ان کی زندگی کے بعد نکلا جس کی وجہ یہودیوں کی ایک غلطی تھی فتح کی بنیادیں رکھ گئے۔اور آپ کی وفات کے چند سالوں کے بعد آپ کے پیروؤں کے ذریعہ فلسطین فتح ہو گیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ہی ہے عرب پر غالب آئے اور مسلمانوں نے اسلامی حکومت قائم کر لی۔مگر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو یہ موقعہ نہیں ملا۔ان کی قوم کو کہیں تین سو سال میں جا کر غلبہ حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی مسیح ناصری کے بروز ہیں۔اس لئے آپ کے کام کو بھی ایک لمبے عرصہ کے بعد، جس میں اسے کئی قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں گی اور ہر قدم پر کوشش اور جدو جہد سے کام لینا پڑے گا اور ایسے نازک حالات میں سے گزرنا پڑے گا کہ کمزور ایمان والے مرتد ہونے کے لئے تیار ہو جائیں گے ، غلبہ حاصل ہوگا۔ہم کو جو جد و جہد کرنی ہے، اس جدو جہد میں ایک یہ ہے کہ ہماری تبلیغ وسیع ہو۔لیکن موجودہ جدوجہد حالات ایسے نہیں کہ ہم دنیا میں تبلیغ کو وسیع کرسکیں۔ہاں دنیا میں تبلیغ کو وسیع کرنے کا ایک اور ذریعہ ہے، جس کا قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے۔قرآن شریف میں حج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حج ایک عبادت ہے لیکن اس کے ساتھ تمہیں یہ بھی اجازت ہے کہ حج کے دنوں میں تم تجارت بھی کر لیا کرو۔کیونکہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اپنا کام کاج چھوڑ کر حج کے لئے جائیں تو ان کو بہت سی مالی مشکلات پیش آ جاتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج گو عبادت ہے لیکن اگر اس کے ساتھ تم تجارت بھی کر لو تو ہماری طرف سے کوئی روک نہیں۔بے شک اپنے پاس سامان تجارت رکھو ، اسے راستے میں بیچتے چلے جاؤ۔619