تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 618

خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اب تو خیر جاپان مغلوب ہو گیا ہے۔پہلے زمانہ کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے۔جو کئی دفعہ میں نے بیان بھی کیا ہے۔ایک جاپانی مصنف نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے۔ہماری قوم نے جب دیکھا کہ مغربی اقوام ہمارے ملک پر قبضہ کر رہی ہیں اور ہر طرح ہمیں ذلیل اور رسوا کرتی ہیں تو ہم نے سمجھا ہمیں بھی عزت نفس کو قائم کرنا چاہیے۔ہم نے سمجھا، یورپین لوگوں میں یہ خوبی ہے کہ ان کے ہاں مدارس میں اور ان کے چھوٹے بڑے تعلیم حاصل کرتے۔یہ دیکھ کر ہم نے بھی اپنے ملک میں تعلیم جاری کی اور ہم نے سمجھا کہ اس طرح یہ ہمیں مہذب سمجھنے لگ جائیں گے۔مگر باوجود اس کے ہم نے گاؤں گاؤں میں سکول کھول دیئے اور ہر جگہ تعلیم رائج کر دی۔یورپین لوگ آئے ، ہماری تعلیم کو دیکھتے مگر سر ہلاتے ہوئے ، یہ کہتے ہوئے گزر جاتے کہ یہ غیر مہذب قوم ہے۔اس پر ہم نے خیال کیا تعلیم نہیں کوئی اور چیز ہے، جس سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔پھر ہم نے سمجھا تجارت اس قوم میں بڑی ہے، ہم بھی اپنی قوم میں تجارت رائج کرتے ہیں۔پھر ہم نے لوگوں کی توجہ تجارت کی طرف مبذول کی اور اتنی تجارت کی کہ ہمارا ملک کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔لیکن یورپین آتے اور سر ہلا کر کہتے ، یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے خیال کیا ،تجارت نہیں کوئی اور چیز ہے، جس سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔پھر ہم نے سمجھا شاید صنعت و حرفت سے تہذیب حاصل ہوتی ہے۔ہم نے بڑے بڑے کارخانے جاری کئے اور باہر سے کسی قسم کا مال منگوانا بند کر دیا۔لیکن پھر بھی یورپین آتے اور سر ہلا کر کہتے ، یہ غیر مہذب قوم ہے۔جب ہم نے دیکھا کہ اس پر بھی ہم غیر مہذب ہی کہلاتے ہیں تو ہم نے خیال کیا یہ لوگ غیر ملکوں میں مال بھیجتے ہیں ، شاید اس لئے مہذب ہیں۔اس پر ہم نے بھی اپنا مال غیر ملکوں میں بھیجنا شروع کر دیا اور خیال کیا کہ اس طرح غیر ملکوں میں مال بھیجنے سے ہم مہذب کہلا سکیں گے۔مگر پھر بھی انہوں نے سر ہلا کر کہا، یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے سمجھا شاید اس وجہ سے یہ ہمیں غیر مہذب کہتے ہیں کہ یہ اپنے جہازوں میں اپنی تجارت کا سامان لا دتے اور دوسرے ملکوں میں لے جاتے ہیں لیکن ہم ان کے جہازوں میں لے جاتے ہیں۔اس خیال کے آنے پر ہم نے بھی اپنے جہاز بنائے اور ان کے ذریعہ اپنا مال دوسرے ملکوں میں بھیجنا شروع کیا۔مگر پھر بھی انہوں نے کہا یہ غیر مہذب قوم ہے۔پھر ہم نے سمجھا، شاید فوج کا پاس ہونا تہذیب کی علامت ہوتی ہے۔ہم نے بھی فوج بنائی اور جہاز وغیرہ تیار کئے۔پھر بھی یورپین ہمیں غیر مہذب کہتے ہیں۔جب ہم نے ساری باتیں کرلیں اور اپنا نام نہ بدلوا سکے۔تو ہم نے سمجھا، یہ چیزیں ہمارے لئے بے کار ہیں۔ہم نے منچوریا کے میدان میں سفید چمڑی والے تین لاکھ آدمی چند دنوں میں قتل کر دیئے۔ان کا قتل ہونا تھا کہ ساری دنیا میں تاریں اڑ گئیں کہ جاپانی مہذب ہو گئے ہیں، جاپانی مہذب ہو گئے ہیں۔618