تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 563
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جون 1945ء ہمارے خرچ کا سالانہ اندازہ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا، تین لاکھ کے قریب ہے لیکن تحریک جدید دفتر دوم کے وعدے اس وقت تک پچاس ہزار ہوئے ہیں۔گویا ہماری آئندہ نسل بجائے سارا بوجھ اٹھانے کے صرف 1/6 حصہ اٹھانے کے قابل ہوسکی ہے۔اس کے متعلق بھی میں جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ جو لوگ ، پہلے دور میں شامل نہیں ہوئے ، ان کو اپنی اپنی جگہ پر دوست تحریک کریں۔میں نے اس کی میعاد تو بڑھادی ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو میعاد اور بھی بڑھادی جائے گی۔کیونکہ سال دو سال کے اندر ہمیں اس تعداد کو اتنا بڑھا دینا چاہئے کہ پہلے انیس سالہ دور کے خاتمہ پر نئی پود اس بوجھ کو پوری طرح اٹھا سکے۔اگر ہماری جماعت کی ترقی اولاد کی وسعت کے لحاظ سے، اگر ہماری جماعت کی ترقی بریکاروں کے کام پر لگ جانے کے لحاظ سے اور اگر ہماری جماعت کی ترقی تبلیغ کی وسعت کے لحاظ سے اتنی نہیں ہوتی کہ ہر دس سال کے بعد ہم کو ایک نیا دور جاری کرنے کے لئے اتنی جماعت مہیا ہو سکے، جو اپنی قربانی سے اس دور کے اخراجات کو اٹھا سکے تو یقینا یہ بات ہماری کمزوری پر دلالت کرنے والی اور ہماری کامیابی کو پیچھے ڈالنے والی ہوگی۔پس ہمارا فرض ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے، ہم آئندہ نسل اور آئندہ آنے والے نئے احمدیوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ایک جماعت پانچ ہزاری فوج کی ہر دفعہ کھڑی کرتے رہیں، جو پہلے دور کے بعد دوسرے دور کے بوجھ کو اٹھانے والی ہو اور دوسرے دور کے بعد تیسرے دور کے بوجھ کو اٹھانے والی ہو اور تیسرے دور کے بعد چوتھے دور کے بوجھ کو اٹھانے والی ہو۔کیونکہ تبلیغ ایسا کام نہیں ، جو ایک دو دن میں ختم ہو جانے والا ہو۔میں نے بار با جماعت کو بتایا ہے کہ کوئی قوم قربانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قربانی کب ختم ہونے والی ہے؟ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری قوم کو مارنے کا فیصلہ کس دن کرے گا؟ جو شخص قربانی کے متعلق یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ختم ہو جائے گی یا ختم ہو جانی چاہئے ، وہ دشمن ہے اپنا ، وہ دشمن ہے اپنے خاندان کا ، وہ دشمن ہے اپنی قوم کا۔کیونکہ قربانی قوموں کی زندگی کا معیار ہے اور جس دن کسی قوم میں سے قربانی مٹ جاتی ہے، اسی دن اس دنیا سے اس قوم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔گو اس قوم کے وجود اس دنیا میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت وہ بیکار وجود ہوتے ہیں ، غلام اور محکوم اور ذلیل اور نا کام وجود، اگر دنیا میں آرام سے زندگی گزارتے ہیں تو یہ ان کے لئے انعام نہیں ہوتا بلکہ ایک سزا ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے بہتر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندہ دفن کر دیں اور مٹ جائیں۔کیونکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔۔۔۔۔بر شریف انسان کو ذلت اور نا کامی کی زندگی سے موت ہزار درجے بہتر معلوم ہوتی ہے۔مسلمان کہلانے والا اگر احمدی نہیں ، تب بھی اگر وہ اپنی سابق عزت و عظمت اور شوکت کو دیکھتے ہوئے " 563