تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 561

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جون 1945ء قربانی قوموں کی زندگی کا معیار ہے خطبه جمعه فرموده یکم جون 1945ء آج میں خصوصیت سے اس غرض کے لئے جمعہ پر آیا ہوں کہ میں دیکھتا ہوں۔ایک طرف تو ہمارے لئے کام کے دروازے کھل رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے کہ جن سامانوں کی موجودگی میں ہمیں تبلیغ اسلام اور تبلیغ احمدیت کی سہولتیں میسر آنے کے امکانات ہیں۔لیکن دوسری طرف مجھے یہ بھی نظر آرہا ہے کہ جماعت میں نہ معلوم ان سہولتوں کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے یا نہ معلوم ایک لمبے عرصہ کی قربانی کی وجہ سے کسی قدرستی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اس موقعہ پر جبکہ روحانی جنگ شروع ہونے والی تھی ، ہمارے حوصلے آگے سے زیادہ بڑھ جاتے اور ہماری قربانیاں آگے سے زیادہ ترقی کر جاتیں، ہمارا جوش آگے سے بہت اونچا چلا جاتا ہے، ہمارے لئے وہ اطمینان اور سکون ، جو غافلوں اور جاہلوں کو حاصل ہوتا ہے، ناممکن ہوجاتا اور جیسے کام کرنے والوں کے دلوں میں ایک بے کلی سی پائی جاتی ہے، وہ حالت ہماری ہو جاتی۔جماعت میں ایک رنگ میں سستی کے آثار پائے جاتے ہیں۔جیسے بخار دیکھنے کے لئے تھرما میٹر ہوتا ہے اور تھرما میٹر سے پتہ لگ جاتا ہے کہ انسانی خون کے دوران میں کتنی تیزی یا کمی ہے؟ اسی طرح جماعت کے قلوب کی حالت کا اندازہ اس کے چندوں کی ادائیگی سے لگایا جاتا ہے۔تحریک جدید کے گزشتہ سالوں کے حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ بالعموم مئی کے آخر تک 65-60 بلکہ ستر فیصدی تک رقوم وصول ہو جایا کرتی تھیں۔لیکن اس دفعہ بجائے 60-65 یا 70 فیصدی کے بمشکل 40 فیصدی چندہ اس وقت تک ادا ہوا ہے۔حالانکہ چھ مہینے گزر چکے ہیں اور زیادہ تر چھ مہینوں میں ہی رقمیں زیادہ آیا کرتی ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جلدی چندہ دینے والے وہی ہوتے ہیں، جن کے اندر اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور جن کے اندرا خلاص زیادہ ہوتا ہے ، وہی قربانی زیادہ کیا کرتے ہیں اور جو قربانی زیادہ کرتے ہیں، وہی وقت پر اپنے فرائض کو ادا کیا کرتے ہیں۔تو پہلے چھ مہینوں میں چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔کیونکہ ہماری جماعت میں سابق رہنے والوں کی خواہش کرنے والوں 561