تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 543

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ملفوظات فرمودہ 05 مئی 1945ء فرمایا:۔جنگ عظیم تحریک جدید کا ایک ظہور ملفوظات فرمودہ 05 مئی 1945ء بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بظاہر الہامی نہیں ہوتیں لیکن انسان ان کے متعلق محسوس کر لیتا ہے کہ وہ خدائی فیصلہ اور خدائی قانون کے ساتھ ایسی وابستہ ہیں کہ وہ بمنزلہ الہام کے ہیں۔میں نے جب تحریک جدید جاری کی تو ابتداء میں اس کے متعلق یہ احساس نہ تھا کہ یہ الہی تحریک ایسے رنگ میں ہے کہ اسے الہامی سمجھا جائے۔مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے مجبور کر کے کسی کام کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے۔مگر تیسرے سال پر پہنچ کر یہ احساس شروع ہوا کہ اس کے اندر خدائی تدبیر کام کر رہی ہے اور اس کی تفصیل بھی الہی منشاء اور اس کی تقدیر کے ماتحت ہے۔چنانچہ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈالی کہ یہ جنگ تحریک جدید کا ایک ظہور ہے اور اس کے خاتمہ سے تعلق رکھتی ہے۔اور یہ خیال ایسا میخ کی طرح گڑا ہوا تھا کہ متعدد دفعہ میں اس کے متعلق بیان کر چکا ہوں۔مجھے خیال پڑتا ہے کہ 1942ء کے آخر میں ایک خطبہ جمعہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ اس جنگ کا اختتام تحریک جدید کے خاتمہ کے ساتھ ہوگا۔اسی طرح مجھے خوب یاد ہے کہ 1943ء میں جب میں گھر کی بعض مریضہ عورتوں کے علاج کے لئے دہلی گیا تو وہاں چوہدری بشیر احمد صاحب نے ایک رات دعوت دی۔اس دعوت میں بہت سے غیر احمدی افسر بھی مدعو تھے اور بعض ایسے تھے، جو سلسلہ کے متعلق تنقیدی نگاہ رکھتے تھے۔اس وقت میرے دائیں پہلو پر چیز (Purchase) کے بڑے افسر غلام مرشد صاحب۔I۔C۔S بیٹھے ہوئے تھے اور میرے بائیں طرف فنانس کے تین افسر تھے۔جن میں سے ایک مرکزی سپلائی کے دفتر کے ایڈوائزر مسٹر ز بیری تھے اور باقی دو دوسرے دفاتر کے تھے۔ان میں سے ایک دوست شاید مسٹر اظہر تھے۔اب وہ پنجاب میں ایڈوائزر کے طور پر لگے ہوئے ہیں اور دوسرے غالباً مسٹر ممتاز حسین صاحب تھے ، جو پنجاب ہی کے رہنے والے ہیں اور ڈاکٹر اقبال صاحب کے بارہ میں کئی مضامین لکھ چکے ہیں۔شروع میں مذہب کے متعلق 543