تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 506

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہوں ، ایسے لوگوں کی تعداد سینکڑوں سے کم نہیں ہے۔مگر ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے ابھی تک اپنی جائیدادوں کو پیش نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں، اب وقت آگیا ہے کہ جماعت اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور اس وسوسہ کو اپنے دل سے نکال دے کہ اگر میں نے اس میں حصہ لیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا؟ دنیا میں بہت سی قربانیوں میں حصہ لینے سے انسان اس لئے محروم رہتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے، اگر میں نے حصہ لیا تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا؟ لیکن اگر انسان اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لے کہ کچھ بھی ہو، میں اپنا مال سب کا سب قربان کردوں گا تو پھر قربانی خواہ کسی مشکل میں اس کے سامنے آئے ، امتحان خواہ کوئی رنگ بدل کر آئے ، اس کا جواب ہر صورت اور ہر حالت میں ایک ہی ہوتا ہے کہ میرا مال حاضر ہے، اسے لے لیا جائے۔پس ایک تو میں جماعت کو وقف جائیداد اور وقف آمد کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور تحریک کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوست اپنے دلوں میں یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ سو فیصدی قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں گے اور ہر قدم پر اپنے اخلاص کا پہلے سے زیادہ شاندار مظاہرہ کریں گے۔مگر میری ان باتوں سے تم یہ مت سمجھو کہ میں صرف نام کے طور پر تمہاری جائیدادوں کا وقف چاہتا ہوں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ شاید کل ہی وہ دن آ جائے ، جب خدا کی آواز میرے ذریعہ سے یہ بلند ہو کہ آؤ اور اپنی ساری جائیدادیں دین کے لئے قربان کر دو۔اگر خدا نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ جماعت سے ساری جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائے تو اس وقت میں یقینا ساری جائیدادوں کا مطالبہ کروں گا۔اور ہر وہ شخص جو اس مطالبہ پر اپنی جائیدادوں کو قربان نہیں کرے گا ، وہ منافق ہوگا۔بالکل ممکن ہے کہ کل ہی اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے، جن میں مجھے یہ اعلان کرنا پڑے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عرصہ تک اس بارہ میں کوئی بھی اعلان نہ ہو۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل میں تم سے صرف ایک فیصدی حصہ جائیداد کا مطالبہ کروں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک الہی تدبیر ہو ، آج وہ میری زبان سے یہ کہلوار ہا ہو اور کل وہ یہ کہلوانا چاہتا ہو کہ اپنی جائیداد میں سب کی سب دین کے لئے قربان کر دو۔یہ تمہارا اختیار ہے کہ تم اسے، جو چاہو مجھو۔چاہو تو اسے خدا کی ایک تدبیر سمجھ لو اور چاہو تو یہ سمجھ لو کہ ابھی تم سے کوئی مطالبہ جائیداد کے بارہ میں نہیں ہو گا۔بہر حال میں یہ جانتا ہوں کہ میں اس وقت صرف اپنے موجودہ خیالات کو ظاہر کر رہا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ؟ اگر کل خدا تعالیٰ کی طرف سے میری زبان پر یہ جاری ہوا کہ جماعت سے ساری جائیدادیں لے لو تو میں یقینا ساری جائیدادوں کا مطالبہ کروں گا اور یقیناً جو شخص پیچھے رہے گا، وہ اپنے ایمان کا ثبوت دینے والا نہیں ہوگا۔506